’امداد سے لاکھوں بچوں کو بچانا ممکن ہوا‘

اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کی ایک تحقیق کے مطابق سنہ انیس سو نوے کے بعد سے دنیا بھر میں مزید چالیس لاکھ بچوں کی زندگیوں کو بچایا گیا ہے۔

ادارے کے مطابق سنہ انیس سو نوے کے برعکس چالیس لاکھ بچے اپنے پانچویں سالگرہ یا پانچ سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد بھی زندہ ہیں۔

یہ تحقیق اورسیز ڈیولپمنٹ انسٹیٹیوٹ نے بچوں کے ادارے سیو دی چلدڈرن اور اقوامِ متحدہ کے بچوں کی فلاح و بہود سے متعلق ادارے یونیسف کے لیے تیار کی ہے۔

پانچ سال کے عمر کے بعد بچوں کے زندہ رہنے میں ایک بڑی وجہ دنیا بھر میں بچوں کی دیکھ بھال پر زیادہ توجہ دینا ہے۔

ادارے کے مطابق حکومتوں کی اچھی پالیسیوں کی وجہ سے بچوں کے زندہ رہنے کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔

برازیل، بنگلہ دیش اور ویت نام جیسے ممالک نے خاص طور پر اس ضمن میں خاصی پیش رفت کی ہے۔

اس رپورٹ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران چھ ایسے شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں بہتری نے بچوں کی زندگیاں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ان میں بین الاقوامی امداد، حکومتی قیادت اور ان کا عزم، معاشی ترقی اور سماجی شعبے میں سرمایہ کاری، منظم منصوبے اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی شامل ہیں۔

تاہم سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بچوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے دی جانے والی امداد کا اس میں اتنا کردار ہے کیونکہ یہ صرف اس وقت ہی موثر ثابت ہو سکتی ہے جب اس کو اچھے طرز حکومت اور معاشی ترقی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔

اسی بارے میں