2012: فکشن میں پُلِٹزر ایوارڈ کا کوئی حقدار نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption فکشن کیٹگری میں ایواڈ کے لیے کسی بھی تنصیف کا انتخاب نہ کرنے کی کئی وجوہات تھیں جن پر کھلے بندوں کو بحث نہیں ہو سکتی ہے: پُلِٹزر پرائز اہلکار

پُلِٹزر پرائز بورڈ نے فکشن کیٹگری میں2012 کے لیےکسی بھی مصنف کو ایوارڈ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پچھلے پینتیس برس میں یہ پہلا موقع ہے جب پُلِٹزر پرائز بورڈ کسی بھی ناول کا انتخاب نہیں کر سکا ہے۔

.پُلِٹزر پرائز کے ایک اہلکار سک گزلر نے بتایا ہے کہ تین ناولوں کو ایوارڈ کے لیے شارٹ لسٹ کیاگیا تھا لیکن ان میں کوئی بھی پُلِٹزر پرائز بورڈ کے ممبران کا اعتماد حاصل نہیں کر سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ نے تفصیلی غور و خوص کے بعد فکشنل کیٹگری میں ایوارڈ نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پُلِٹزز ایوارڈ اخبارات، آن لائن صحافت، ادب اور موسیقی کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی پر دیا جاتا ہے۔ اس ایوارڈ کا آغاز ہنگری میں پیدا ہونے والےامریکی پبلشر جوزف پُلِٹزر نے کیا تھا اور اس کا انتظام اب نیویارک شہر میں واقع کولمبیا یونیورسٹی کرتی ہے۔

جن کتابوں کو فکشن کیٹگری کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا تھا ان میں ڈیوڈ فوسٹر ویلس کی ’دی پیل کنگ‘ (The Pale King)، کیرن رسل کی’سوامپلینڈیا‘( Swamplandia ) اور ڈینس جانسن کے ناول ’ٹرین ڈریمز‘ (Train Dreams) شامل تھے۔

پُلِٹزر پرائز کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ فکشن کیٹگری میں ایوارڈ کے لیے کسی بھی تصنیف کا انتخاب نہ کرنے کی کئی وجوہات تھیں جن پر کھلے بندوں بحث نہیں ہو سکتی ہے۔

’سواملینڈیا‘ کے پبلشر ایلفرڈ نوف کے ڈائریکٹر پال بوگارڈ نے پُلِٹزر پرائز بورڈ کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پُلِٹزر پرائز امریکہ میں فکشن میں سب سے اہم ایوارڈ ہے اور یہ شرم کی بات ہے کہ بورڈ نے کسی بھی ناول کو ایوارڈ کے قابل نہیں سمجھا۔ انہوں نے کہا پُلِٹزر پرائز ایوارڈ کسی بھی کتاب کی فروخت پر اثر انداز ہوتا ہے اور یہ ایوارڈ کسی بھی مصنف کے کیریئر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

البتہ ’دی پیل کنگ‘ ناول کے پبلشر لٹل براؤن اینڈ کمپنی نے اپنی تصنیف کو پُلِٹزر پرائز کے لیے نامزد کیے جانے پر خوشی کا اظہار کیا۔ کمپنی کےترجمان مائیکل پٹش نے کہا ’دی پیل کنگ‘ کو پُلِٹزر پرائز کے ججوں کے سامنے پیش کرنے کے فیصلے سے انہیں بہت خوشی ہوئی ہے۔ ’دی پیل کنگ‘ فراسٹ ویلس کے نوٹس پر مبنی ہیں جو انہوں نے دو ہزار آٹھ میں خود کشی سے پہلے تیار کیے تھے۔

پُلِٹزر پرائز کی فکشن جیوری کی چیئر ویمن نے کہا کہ یہ جیوری کا کام نہیں ہے کہ وہ ایوارڈ کے حقدار مصنف کا انتخاب کرے اور اس کا فیصلہ صرف اور صرف پُلِٹزر پرائز بورڈ کرتا ہے۔

نان فکشن کیٹگری میں سٹیفن گرین بالٹ کے’دی سورو: ہاؤ دی ورلڈ بیکیم ماڈرن‘ (The Swerve: How the World Became Modern) کے حصے میں آیا۔

ہسٹری گیٹگری میں پُلِٹزر پرائز کولمیبیا یونیورسٹی کے تاریخ دان میننگ ماربل کی کتاب : ’میلکم ایکس: اے لائف آف ری انوینشن‘(Malcolm X: A Life of Reinvention ) کے حصے میں آیا۔ میننگ ماربل اس تصنیف کے منظر عام پر آنے کے بعد وفات پا گئے تھے۔

سوانح عمری کی کیٹگری میں یلز یونیورسٹی کے پروفیسر جان لیوس گاڈس کی کتاب ’جارج ایف کینان: این امریکن لائف‘ George F. Kennan: An American Life.

پُلِٹزر پرائز کے ایوارڈ کی حقدار قرار پائی۔

شاعری کی کیٹگری میں ٹریسی سمتھ کی شاعری کو پُلِٹزر پرائز کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

اسی بارے میں