وائٹ ہاؤس کی طرف سےامریکی فوجیوں کی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پینٹاگن نے اخبار لاس اینجلس ٹائمز یہ تصاویر شائع نہ کرنے کی درخواست کی تھی

امریکہ اور نیٹو حکام نے امریکی فوجیوں کی طرف سے افغانستان میں خود کش حملہ آوروں کی لاشوں کے ساتھ تصویریں اتروانے کی حرکت کی مذمت کی ہے۔

امریکہ نے افغانستان میں تعینات اپنے فوجیوں کی اس حرکت کی مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف تحقیقات کا وعدہ بھی کیا ہے۔

امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس نے کہا کہ فوجیوں کا طرز عمل قابل مذمت ہے جبکہ نیٹو سیکریٹری جرنل اندرے راس موسن کا کہنا ہے کہ فوجیوں کا رویہ افغستان میں تعینات نیٹو افواج کی اقدار اور اصولوں کی نمائندگی نہیں کرتا۔

امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگن کے منع کرنے کے باوجود امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز نے دو ہزار دس میں لی گئی یہ تصاویر شائع کر دیں۔

اس سے قبل افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی کئی اور حرکات بھی امریکہ اور افغان حکومت کے درمیان کشیدگی کا باعث بنتی رہی ہیں۔

اس سال کے اوائل میں ایک ویڈیو ٹیپ سامنے آئی تھی جس میں امریکی فوجیوں کو افغان شدت پسندوں کی لاشوں پر پشاب کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس کے بعد بگرام کے ہوائی اڈے پر قران شریف کے نسخے نذر آتش کرنے کا واقع سامنے آیا اور اس پھر ایک امریکی سارجنٹ نے رات کی کارروائی کے دوران ایک گھر میں گھس کر بے گناہ خواتین اور بچوں کو ہلاک کر دیا تھا۔