امریکہ اور افغانستان کے درمیان معاہدہ

امریکہ اور افغانستان نے سنہ دو ہزار چودہ میں نیٹو افواج کے انخلاء کے تعد دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعلقات کے ایک اہم معاہدے کو آخری شکل دے دی ہے۔

دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان اس معاہدے پر گزشتہ ایک سال سے بات چیت کا سلسلہ جاری تھا۔ اس معاہدے کو اب امریکی کانگرس اور افغان پارلیمنٹ سے توثیق کے لیے بھیجا جائے گا۔

اس معاہدے کی تفصیلات ابھی عام نہیں کی گئی ہیں۔

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کی خودمختاری کے بارے میں یقین دہانیاں حاصل کرنے کے بعد ہی اس معاہدے پر دستخط کریں گے۔

امریکہ نے گیارہ ستمبر دو ہزار ایک میں امریکہ پر دہشت گرد حملوں کے بعد افغانستان پر حملہ کر دیا تھا۔ گیارہ سال کی مسلسل جنگ کے باوجود امریکی فوج افغانستان میں امن قائم کرنے میں ناکام رہی ہے اور آج بھی طالبان اور القاعدہ ایک بڑے خطرے کے طور پر موجود ہیں۔ ضرف ایک ہفتہ قبل ہی طالبان نے کابل سمیت ملک کے پانچ صوبوں میں منظم حملے کیے تھے اور کابل میں انتہائی سیکورٹی والے علاقے میں مغربی ملکوں کے سفارت خانوں کو نشانہ بنایا تھا۔