شام میں مبصرین کی تعداد بڑھانے پر قرارداد منظور

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سلامتی کونسل میں مبصرین کی تعیناتی کے حق میں قرارداد اتفاق رائے سے منظور کی گئی ہے

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں اقوام متحدہ کے غیرمسلح فوجی مبصرین کی تعداد تین سو تک بڑھانے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

یہ مبصرین وہاں تین ماہ تک قیام کریں گے اور فائربندی کی نگرانی کے ساتھ ساتھ شامی حکومت کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے پر عملدرآمد میں مدد کریں گے۔

مبصرین کی تعیناتی کے حق میں قرارداد اتفاق رائے سے منظور کی گئی ہے۔ باوجود اسکے کہ مغربی ملکوں کو امن معاہدے کی پاسداری میں شام کی ناکامی پر تشویش ہے۔

اس سے قبل شام میں پہلے سے تعینات اقوام متحدہ کے مبصرین کی ایک چھوٹی ٹیم نے حزب اختلاف کے گڑھ تصور کیے جانے والے علاقے حمص کا دورہ کیا۔

حزب اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شام میں کل یعنی ہفتے کو تشدد کے واقعات میں مزید چالیس افراد ہلاک ہوئے جن میں درعا کے علاقے میں ایک ہی خاندان کے پندرہ افراد بھی شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ مبصرین نے حمص کے گورنر سے ملاقات کی اور جنگ سے متاثرہ شہر کے مختلف حصوں کے دورے بھی کیے۔

شام میں کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے حمص میں کئی ہفتوں میں پہلی مرتبہ سنیچر کو بمباری روک دی اور ٹینکوں کو منظر عام سے ہٹا دیا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ شامی فوج جلد ہی دوبارہ حملے شروع کر دے گی۔

حمص شہر گزشتہ تیرہ ماہ سے شامی صدر بشار الاسد کے خلاف جاری بغاوت کا مرکز بنا ہوا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شام میں جمعے کو بھی تشدد کے واقعات میں کم از کم تئیس افراد ہلاک ہو گئے جن میں دس افراد اس وقت ہلاک ہوئے جب سڑک کے کنارے نصب بم کے ذریعے سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔

اسی بارے میں