’جنوبی سوڈان سے مذاکرات نہیں کریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سوڈان کے صدر عمر البشیر نے کہا ہے کہ جنوبی سوڈان کی حکومت سے مذاکرات نہیں کیے جا سکتے کیونکہ وہ صرف ہتھیاروں اور گولیوں کی زبان سمجھتی ہے۔

انہوں نے یہ بات پیر کو سوڈانی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے ہیگلگ کے علاقے میں کہی جس پر جنوبی سوڈان کی فوج نے دو ہفتے قبل حملہ کر کے قبضہ کر لیا تھا۔

دوسری جانب جنوبی سوڈان کے حکام نے پیر کو سوڈانی جنگی طیاروں کے حملے کو سنجیدہ اور اشتعالی قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر بشیر کا کہنا تھا ’ان لوگوں سے کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔‘

انہوں نے فوجیوں سے کہا ’ہماری بات چیت ان سے ہتھیاروں اور گولیوں کے ذریعے ہی ہوگی۔‘

پیر کو سوڈان کے جنگی طیاروں نے جنوبی سوڈان کے شہر بینتیو کے قریب حملے کیے تھے جس کے نتیجے میں کم از کم ایک شحض ہلاک ہو گیا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق اس حملے میں ایک مارکیٹ کو آگ لگ گئی تھی اور ان کے بقول انہوں نے وہاں ایک کم عمر بچے کی لاش بھی دیکھی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ سے دونوں ممالک کے تیل سے بھرپور متنازع سرحد پر لڑائی جاری ہے جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان جنگ چھڑ جانے کا خدشہ ہے۔

اسی بارے میں