شام میں ہلاکتیں، مبصرین کے مشن پر شبہات

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مبصرین جہاں پہنچتے ہیں وہاں فورسز کارروائی کررہے ہیں

شام میں پرتشدد واقعات میں ایک مرتبہ پھر تیزی آئی ہے اور وہاں ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے جس سے اقوام متحدہ کے امن منصوبے اور جنگ بندی کے معاہدے کی کامیابی کے بارے میں شکوک و شبہات مزید گہرے ہوگئے ہیں

اپوزیشن کارکنان کا کہنا ہے کہ پیر کو شام میں ستر افراد ہلاک ہوئے جن میں سے بیشتر حما میں حکومتی افواج کی کارروائیوں میں مارے گئے۔

شام کے لیے عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے ایلچی کوفی عنان کی ثالثی کے بعد وہاں فائربندی کا معاہدے طے پایا تھا جس کا نفاذ بارہ اپریل کو ہوا تھا۔

اس وقت سے تشدد میں کمی تو آئی ہے لیکن صدر بشار الاسد کی حکومت امن منصوبے اور جنگ بندی سے متعلق شرائط کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے اور تشدد پر قابو بھی نہیں پایا جا سکا ہے۔

امن معاہدے کے تحت اقوام متحدہ کے غیر مسلح مبصرین جنگ بندی کی نگرانی کریں گے۔ پہلے مرحلے میں گيارہ مبصرین ہی شام پہنچے ہیں جبکہ تین سو دیگر جانے کی تیاری میں ہیں اور وہ جلد شام جائیں گے۔

لیکن اپوزیشن کارکنان کا کہنا ہے کہ مبصرین کی آمد ان کے لیے مزید مصیبت کا باعث بن گئی ہے۔

ایک کارکن مصعب الحمیدی نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ اتوار کے روز حکومت کے مخالفین کو اس لیے سزا دی گئی کیونکہ انہوں نے اقوام متحدہ کے مبصرین کا خیر مقدم کیا تھا اور ’شام زندہ باد اور اسد مردہ باد‘ کے نعرے لگائے تھے۔

پیر کے روز شام کی فوجوں نے مشعل العربین ضلع میں گولہ باری کی تھی جس میں تقریباً چالیس افراد ہلاک ہوئے۔

ایک دوسرے کارکن نے اے پی کو بتایا ’یہ مبصرین ہمارے لیے بربادی لے کر آئے ہیں، جس علاقے میں بھی وہ جاتے ہیں حکومت اسی پر حملہ کرتی ہے، یہ ایک المیہ ہے‘۔

شامی حکومت کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ان مسلح دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جو ان علاقوں میں شہریوں پر حملہ اور قتل کر ر ہے تھے۔

درعا میں بھی جب مبصرین کی آمد پر لوگ باہر آئے اور حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا تو وہاں بھی آنسو گيس کا استعمال کیا گيا اور پھر سکیورٹی فورسز نے ان پر فائرنگ بھی کی۔

اس تشدد کے بعد اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر سوزین رائس نے سکیورٹی کونسل کو بتایا ’حکومت کا طویل ریکارڈ دھوکہ اور فریب پر مبنی رہا ہے، اس طرح شام کا مشن پرخطر ہے‘۔

اقوام متحدہ میں سیاسی امور کے سربراہ بی لیئن نے کہا کہ شام میں کھلے عام انسانی حقوق کی پامالیاں ہورہی ہیں۔

اس مسئلے پر منگل کو سکیورٹی کونسل کی ایک میٹنگ بھی ہونے والی ہے جس میں کوفی عنان حالات کا جائزہ پیش کریں گے۔

اسی بارے میں