لیبیا انتخابات: مذہبی جماعتوں پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption اگر اس قانون کو تبدیل نہ کیا گیا تو ہم اس کے خلاف احتجاج کریں گے: اخوان المسلمین

لیبیا میں حکام نے مذہبی بنیادوں پر سیاسی جماعتوں کی تشکیل پر پابندی عائد کردی ہے۔

حکام نے یہ اقدام جون میں ہونے والے انتخابات کے تناظر میں کیا ہے۔ سرکاری ترجمان کا کہنا ہے کہ ایسی جماعتیں جن کی بنیاد عقائد، قبائل یا گروہ کی بنیاد پر ہوگی انہیں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اہل قرار نہیں دیا جائے گا۔

منتقلیِ اقتدار کی قومی کونسل کا کہنا ہے کہ منگل کو منظور کیے جانے والے قانون کا مقصد ’قومی اتحاد‘ کو سلامت رکھنا ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قانون سے بظاہر مذہبی جماعتوں میں اشتعال پھیلےگا جن میں اخوان المسلمین بھی شامل ہے۔

کونسل کے ترجمان محمد الحارزی نے رائٹرز کو بتایا ’قبائل، گروہی یا مذہبی بنیاد پر کسی بھی جماعت کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔‘

تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آیا اس قانون کے تحت لیبیا کی اخوان المسلمین کی جانب سے مارچ میں تشکیل دی گئی سیاسی جماعت کس حد تک متاثر ہوگی۔

جماعت اخوان المسلمین لیبیا میں انتہائی منظم گروہ کے طور پر تصور جاتی ہے اور توقع ہے کہ یہ ملک میں بااثر کردار ادا کرے گے جہاں اسلام پسندوں کو بیالیس سال تک شدید انداز میں کچلا گیا تھا۔

اخوان المسلمین کی ’آزاد اور ترقی‘ جماعت کا کہنا ہے کہ کہ منتقلیِ اقتدار کی کونسل کو چاہیے کہ وہ وضاحت کرے کہ مذہبی جماعتوں پر پابندی کے قانون سے اس کی کیا مراد ہے۔

جماعت کے رکن محمد ساون نے رائٹرز کو بتایا ’قانون کی ایسی شِق ان ممالک میں ہوتی ہے جہاں کئی مذاہب کے ماننے والے بستے ہیں لیکن لیبیا میں ایسی شق لاگو نہیں ہوتی کیونکہ یہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔‘

انہوں نے کہا ’ایسے قانون کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور اگر اسے تبدیل نہ کیا گیا تو ہم اس کے خلاف احتجاج کریں گے۔‘

گزشتہ سال نیٹو کی مدد سے کرنل قذافی کا تختہ الٹنے کے بعد لیبیا میں جون میں ہونے والے پہلے انتخابات ہوں گے۔

آٹھ ماہ کی لڑائی کے بعد باغیوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں کرنل قذافی کو ہلاک کردیا تھا۔

اسی بارے میں