شام:’مکان پر حملے میں ستر افراد ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام میں بدھ کو تشدد کے مختلف واقعات میں مزید بیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں: حزب مخالف

شام کے شہر حما میں حزب مخالف کے کارکنوں کے مطابق مبینہ طور پر ایک مکان پر حملے میں کم از کم سترافراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شام میں حزب مخالف کا کہنا ہے مکان کو دھماکے سے تباہ کیا گیا ہے جبکہ شامی حکومت کا کہنا ہے کہ مکان میں مسلح دہشت گرد گروہوں نے بم تیار کرنے والی فیکڑی قائم کر رکھی تھی۔

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق اس مکان میں دھماکے کے نتیجے میں سولہ افراد ہلاک ہو گئے۔

حزب اختلاف کے کارکنوں کے مطابق ایک زوردار دھماکے میں کئی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

ایک اطلاع کے مطابق ہلاک ہونبے والوں میں تیرہ بچے اور پندرہ خواتین بھی شامل ہیں۔

حزب اختلاف کے کارکنوں کی جانب سے انٹرنیٹ پر جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں تباہی کے مناظر ہیں اور لوگ ملبے تلے دبے افراد کو باہر نکال رہے ہیں۔

حزب اختلاف کے مطابق مکان میں دھماکہ شامی فوجی کی گولہ باری یا سکڈ میزائل کے نتیجے میں ہوا ہے۔

اس سے پہلے فرانس نے کہا ہے کہ شام میں اقوام متحدہ کی سربراہی میں امن منصوبہ ناکام ہوتا ہے تو اس صورت میں سلامتی کونسل کو وہاں فوجی طاقت کے استعمال پر غور کرنا چاہیے۔

فرانس کے وزیر خارجہ ایلن یوپ کا کہنا ہے کہ شام کی حکومت کو ہمیں للکارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا ہے کہ دو ہفتوں کے اندر شام میں اقوام متحدہ کے مزید تین سو مبصرین کو تعینات کیا جانا چاہیے۔

فرنسیسی وزیر خارجہ کے بقول’ہمیں شق سات کی قرارداد کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے تاکہ وہاں جاری المیے کو روکا جا سکے، شق سات فوج کی مدد سے کارروائی کی اجازت ہو گی۔‘

تاہم چین اور روس کی جانب سے خدشہ ہے کہ وہ اس طرح کی کسی قرارداد کو ویٹو یا مسترد کر دیں گے کیونکہ وہ اس سے پہلے شام پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی کوششوں کو روک چکے ہیں۔

خیال رہے کہ شام کے مسئلے پر سکیورٹی کونسل میں اختلافِ رائے ہے مغربی طاقتیں مزید سخت اقدامات پر زور دے رہی ہیں جبکہ دمشق کے اتحادی روس اور چین کا خیال ہے کہ کوفی عنان کا چھ نکاتی امن منصوبہ جس پر شام کی حکومت بھی رضامند ہے اس مسئلے کے حل کے لیے کافی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام میں دو ہفتوں کے اندر مزید تین سو مبصرین تعینات کیے جائیں: فرانس

اقوام متحدہ نے شام میں امن منصوبے کی نگرانی کے لیے مبصرین کی محدود ٹیم بھیج رکھی ہے اور گزشتہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں مزید تین سو مبصرین کی تعیناتی کی اجازت دی تھی۔

دوسری جانب شام میں شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان کے شام کے شہروں سے فوجی اور بھاری ہتھیاروں کے انخلاء کے مطالبے کے باوجود تشدد کے واقعات جاری ہیں۔

بدھ کو شام کے مختلف شہروں میں پرتشدد واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تشدد کے واقعات ان علاقوں میں بھی رونما ہوئے ہیں جہاں پر بین الاقوامی مبصرین جنگ بندی کا جائزہ لے رہے ہیں۔

شام میں حزب مخالف کے کارکنوں کے مطابق بدھ کو تشدد کے ان واقعات میں کم از کم بیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

بدھ کو ہی کوفی عنان نے سکیورٹی کونسل سے کہا ہے کہ بارہ اپریل کو ہونے والی جنگ بندی کے باوجود بھی شام میں ناقابلِ قبول حد تک تشدد جاری ہے۔

اسی بارے میں