گیس کی قیمت پر جلد معاہدے کی امید

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سولہ سو چالیس کلومیڑ لمبی مجوزہ گیس پائپ لائن افغانستان سے گزر کر پاکستان اور پھر ہندوستان پہنچے گی۔

ترکمانستان میں حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ گیس کی قیمت پر جلد ہی سمجھوتہ ہو جائے گا۔

دنیا بھر میں پائے جانے والے قدرتی گیس کے ذخائر میں سے چار فیصد ترکمانستان میں ہیں اور وہ آئندہ چند ماہ میں چار ملکی گیس پائپ لائن منصوبے پر ہونے والے مذاکرات کے دوران اس معاہدے کے لیے پرامید ہے۔

ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت وہ چار ممالک ہیں جو اس امریکی حمایت یافتہ منصوبے کا حصہ ہیں۔

ایک ترکمان اہلکار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ابتدائی معاہدے کے تحت اس منصوبے سے جڑے ممالک کے درمیان رواں سال موسمِ گرما سے قبل بات چیت ہونی ہے اور اس میں گیس کی خریدوفروخت کا معاہدہ بھی ہو سکتا ہے۔

بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے حال ہی میں ایک خط میں دسمبر دو ہزار دس کے ابتدائی معاہدے کے بعد اس منصوبے پر ہونے والی پیشرفت کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

منموہن سنگھ نے یہ خط ترکمانستان اور بھارت کے سفارتی تعلقات کی بیسویں سالگرہ کے موقع پر تحریر کیا ہے اور اسے ترکمانستان کے اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔

ترکمانستان ، افغانستان، پاکستان اور ہندوستان ( ٹیپی) کے درمیان سولہ سو چالیس کلومیڑ لمبی مجوزہ گیس پائپ لائن افغانستان سے گزر کر پاکستان اور پھر ہندوستان پہنچے گی۔

یہ منصوبہ سنہ انیس سو پچانوے میں سامنے آیا تھا اور ابتداء میں اس منصوبے کے تحت پاکستان کو ترکمانستان سے افغانستان کے ذریعے گیس فراہم ہونا تھی لیکن سنہ دو ہزار آٹھ میں بھارت بھی اس منصوبے میں شامل ہوگیا۔

موجودہ منصوبے کے تحت اس پائپ لائن کی مدد سے تیس سال کے عرصے میں ایک ٹریلین مکعب میٹر یا سالانہ تینتیس ارب مکعب میٹر گیس فراہم کی جانی ہے۔

تاہم اس پائپ لائن کے مجوزہ راستے خصوصاً افغانستان میں جہاں سے یہ پائپ لائن گزرے گی وہاں کی سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے اس کی تعمیر میں مشکلات حائل ہیں اور یہی نہیں بلکہ بھارت اور پاکستان کا گیس کی مقدار اور قیمت پر متفق ہونا باقی ہے۔

ترکمانستان میں دنیا کے دریافت شدہ گیس کے چوتھے بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں اور وہ پہلے ہی چین، روس، یورپ اور ایران کو گیس فراہم کر رہا ہے جبکہ توانائی کی قلت کے شکار پاکستان نے ایران کے ساتھ بھی گیس پائپ لائن بچھانے کا معاہدہ کیا ہے۔

اسی بارے میں