قندھار جیل کے قیدی بھوک ہڑتال پر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سرپوزا جیل قیدیوں اور جیل کے عملے کے مابین تصادم اور بدعنوانی کے واقعات کی وجہ سے بدنام ہے

افغان حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی صوبے قندھار کی مرکزی جیل میں متعدد قیدیوں نے کابل منتقل کیے جانے کے منصوبے کے خلاف بھوک ہڑتال کر دی ہے۔

قندھار کے گورنر کے دفتر کی جانب سے جاری شدہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جن قیدیوں نے بھوک ہڑتال کی ہے ان کا تعلق جیل کے ’پولیٹیکل ونگ‘ سے ہے۔

افغان حکام کے مطابق اس جگہ پر دو سو طالبان جنگجوؤں اور کمانڈرز کے علاوہ بدعنوانی اور طالبان سے تعلقات کے الزام میں قید کیے جانے والے سرکاری اہلکاروں کو رکھا گیا ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق سرپوزا جیل قیدیوں اور جیل کے عملے کے مابین تصادم اور بدعنوانی کے واقعات کی وجہ سے بدنام ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی منتقلی کی وجہ سرپوزا نامی اس جیل میں گنجائش سے زائد قیدیوں کی موجودگی ہے تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ جیل حکام کو خدشہ ہے کہ ان قیدیوں کو جیل سے فرار کروانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ سرپوزا وہی جیل ہے جہاں سےگزشتہ برس چار سو اٹھاسی قیدی ایک زیرِ زمین سرنگ کھود کر فرار ہو گئے تھے اور اسی جیل پر طالبان نے سنہ دو ہزار نو میں حملہ بھی کیا تھا۔

خیال رہے کہ حال ہی میں امریکہ اور افغانستان کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت بگرام سمیت افغانستان کی تمام جیلیں اب افغان حکام کے زیرِانتظام آ جائیں گی۔ ان جیلوں میں سب سے زیادہ متنازع بگرام جیل ہے جس میں دہشتگردی کے ملزمان سمیت تین ہزار افراد قید ہیں۔

اسی بارے میں