’اسامہ کے اہلخانہ کے لیے شناختی دستاویزات‘

Image caption اسامہ کی دو بیوائیں سعودی ہیں جبکہ ایک کا تعلق یمن سے ہے

اطلاعات کے مطابق سعودی حکام نے پاکستان سے ملک بدر ہو کر سعودی عرب پہنچنے والے اسامہ بن لادن کے اہلِخانہ کو شناختی دستاویزات جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ باآسانی ملک میں نقل و حرکت کر سکیں۔

اس سے قبل سعودی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ انہوں نے ان افراد کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اسامہ بن لادن کے اہلخانہ ان کے لیے مشتبہ نہیں ہیں۔

ان افراد کی نقل و حرکت پر بھی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔

جمعرات کی شب سعودی عرب پہنچنے والے اسامہ بن لادن کے خاندان والوں میں ان کی تین بیوائیں اور گیارہ بچے شامل ہیں۔ اسامہ بن لادن کی دو بیواؤں کا تعلق سعودی عرب سے ہی ہے جبکہ ان کی تیسری بیوی امل عبدالفتاح یمنی ہیں۔

اسامہ کے اہلِ خانہ جمعرات کو رات گئے سعودی عرب پہنچے تو ان کے رشتہ داروں نے ان کا استقبال کیا۔ سعودی عرب کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اب اسامہ کی تینوں بیوائیں اور ان کے بچے جدہ میں قیام پذیر ہیں اور اسامہ بن لادن کے ایک بیٹے عبداللہ بن لادن نے ان کے لیے تین الگ الگ رہائش گاہوں کا انتظام کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسامہ بن لادن کے اہلخانہ جمعرات کی شب پاکستان سے سعودی عرب گئے تھے

اسامہ بن لادن کے اہلخانہ کو ان کے قانونی نگران بن لادن خاندان کی درخواست پر ہی سعودی عرب لایا گیا ہے۔

مقامی صحافی حسین راشد کے مطابق اسامہ کے خاندان کے قریبی ذرائع کے مطابق ان کی بیوائیں جلد از جلد عمرہ کرنا چاہتی ہیں اور انہیں جن حالات کا سامنا رہا ہے اس کے بعد انہیں معاشرے میں دوبارہ گھلنے ملنے اور ایک عام زندگی گزرانے کے لیے نفسیاتی کاؤنسلنگ کی ضرورت ہے۔

یہ افراد گزشتہ برس دو مئی کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن میں ان کی ہلاکت کے بعد پاکستانی حکام کی تحویل میں تھے۔

اس حراست کے دوران کئی ماہ تک ان سے پوچھ گچھ کی جاتی رہی اور پھر اسامہ بن لادن کے اہل خانہ کی پانچ بالغ خواتین کو پاکستان میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے اور رہائش رکھنے کے جرم میں پینتالیس دن قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

سزا سنائے جانے کے بعد انہیں اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس کے ایک مکان میں منتقل کر دیا گیا تھا جسے سب جیل قرار دیا گیا تھا۔ اس قید کی تکمیل کے بعد انہیں ایک خصوصی طیارے کے ذریعے بقول پاکستانی وزارتِ داخلہ ان کی پسند کے ملک بھیج دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں