’لیبیا کے سابق وزیر کی موت ڈوبنے سے ہوئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

آسٹریا میں ہونے والے پوسٹ مارٹم کے ابتدائی نتائج کے مطابق لیبیا کے سابق وزیر شکری غانم کی موت دریا میں ڈوبنے سے ہوئی ہے۔

شکری غانم کی لاش اتوار کو ویانا کے دریائے ڈینیوب سے ملی تھی۔

پولیس کے چیف انسپیکٹر رومن ہیشلِنگر کا کہنا ہے کہ شکری غانم کی موت میں بظاہر بیرونی ہاتھ نہیں ہے اور نہ ہی خود کشتی کی کوئی علامت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شکری کی لاش کے پاس سے خود کشی کا کوئی نوٹ نہیں ملا۔

پولیس چیف انسپیکٹر نے بتایا کہ شکری غانم کے جسم پر تشدد کی بظاہر کوئی علامت نظر نہیں آئی ہے۔

انہتر سالہ شکری غانم گزشتہ برس لیبیا میں کرنل قذافی کی حکومت کے خلاف احتجاجی لہر شروع ہونے کے بعد ان سے الگ ہو گئے تھے۔

انہوں نے لیبیا میں خون خرابہ ہونے پر شدید تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ حالات ناقابلِ برداشت ہوتے جارہے ہیں۔

وہ سنہ دو ہزار تین سے دو ہزار چھ تک لیبیا کے وزیراعظم بھی رہے اور بعد ازاں وہ سنہ دو ہزار گیارہ تک وزیرِ تیل رہے۔

وہ ویانا میں واقع ایک تیل کی کمپنی میں مشیر کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔

اسی بارے میں