کابل: صدر اوباما کا افغان جنگ کے اختتام کا عہد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکی صدر کے دورے کے تھوڑی دیر بعد کابل ایک خودکش کار بم حملے سمیت تین دھماکے ہوئے ہیں

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کابل کے غیر اعلانیہ دورے کے موقع پر افغانستان میں ’مقصد کی تکمیل‘ اور افغان جنگ کے اختتام کا عہد کیا ہے۔

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی فورسز کی یکطرفہ کارروائی میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی پہلی برسی کے موقع پر امریکی صدر براک اوباما منگل کو رات گئے غیر اعلانیہ دورے پر کابل پہنچے۔

دریں اثناء امریکی صدر کے دورے کے چند گھنٹوں بعد کابل میں ایک خودکش کار بم حملے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

صدر براک اوباما نے افغانستان کے ایک فوجی اڈے سے امریکی عوام سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شکاگو میں منعقد ہونے والی نیٹو کانفرس میں اتحادی افغانستان کی سکیورٹی فورسز کا ہداف کا تعین کریں گے جو آئندہ برس سے جنگی کارروائیوں کی ذمہ داری سنبھال رہی ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ’ مکمل طور پر قومی سلامتی کے حصول کے بعد میں امریکیوں کو ایک ایسے نقصان دے راستے پر ضرورت سے ایک دن زیادہ رہنے نہیں دوں گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ’ میرے ہم وطنوں ہم نے تقریباً ایک دہائی جنگ کے سیاہ بادلوں میں گزاری ہے اور اب یہاں افغانستان میں صبح کے اجالے سے پہلے کا اندھیرہ ہے اور ہم افق پر ایک نئے دن کی روشنی دیکھ سکتے ہیں۔‘

امریکی صدر نے طالبان سے بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ القاعدہ سے اپنے تعلقات منقطع کر دیتے ہیں اور امن کا راستہ اپناتے ہیں تو ان کے ساتھ مصالحت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شکاگو میں نیٹو کے اجلاس سے پہلے وہ پاکستان پر واضح کر چکے ہیں کہ وہ اس عمل میں برابری کی بنیاد پر شراکت دار بن سکتے ہیں۔

’پرائیدار امن کے حصول کے لیے امریکہ کے پاس القاعدہ کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے اور افغان خودمختاری کے سوائے کوئی دوسرا منصوبہ نہیں ہے۔‘

افغانستان سے سال دو ہزار چودہ سے پہلے انخلاء کے مطالبوں کو مسترد کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ہمیں اس کام کو پورا کرنا ہو گا جو افغانستان میں شروع کیا گیا تھا اور افغان جنگ کو ذمہ داری سے ختم کرنا ہو گا۔

اس سے پہلے امریکی صدر نے کابل میں افغان صدر حامد کرزئی سے سٹریٹیجک شراکت داری کا ایک دس سالہ معاہدہ کیا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے دس سالہ سٹریٹیجک شراکت داری کے معاہدے میں افغانستان سے نیٹو افواج کے سنہ دو ہزار چودہ میں انخلاء کے بعد امریکہ اور افغانستان کے درمیان فوجی اور غیر فوجی تعلقات کو فروغ دینا ہے

معاہدے کے بعد افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ افغان جنگ کے خاتمے کے بعد ہونے والا معاہدہ دونوں ممالک کے لیے برابری کی بنیاد پر شراکت داری کے مواقع فراہم کرے گا۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار پال ایڈمز کا کہنا ہے کہ امریکہ اور افغانستان کے درمیان ہونے والا شراکت داری معاہدہ دونوں ممالک کے طویل تعلقات کی جانب پہلا قدم ہے۔

نامہ نگار کے مطابق اس معاہدے سے افغان عوام کو یہ باور کروایا جائے گا کہ نیٹو افواج کے افغانستان میں جاری آپریشن کے خاتمے کے بعد انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

نامہ نگار کے مطابق اس معاہدے کے ذریعے طالبان کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے چلے جانے کے بعد وہ افغانستان پر آسانی سے دوبارہ قبضہ نہیں کر پائیں گے۔

کابل میں خودکش حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکی صدر براک اوباما کے امریکی عوام سے براہ راست خطاب کے چند گھنٹے بعد ایک رہائشی احاطے پر خودکش کار بم حملے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ حملہ جلال آباد روڑ پر ہوا ہے جہاں غیر ملکی افواج کے متعدد اڈے قائم ہیں۔

دھماکوں کے دیگر واقعات میں کم از کم سترہ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

طالبان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

افغانستان میں نیٹو کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ خودکار ہتھیاروں اور دستی بموں سے لڑائی کئی گھنٹے جاری رہی۔

ترجمان کے مطابق اس دوران ایک زوردار دھماکہ ہوا جبکہ تمام حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں