شامی فوج پر جنگی جرائم کے الزامات

عدلیب فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رپورٹ میں شہریوں کی املاک کو تباہ کیے جانے کی تفصیل بھی دی گئی ہے

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے الزام لگایا ہے کہ شام کی فوج نے بارہ اپریل کی جنگ بندی سے قبل جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ عدلیپ صوبے کے اطراف میں ہونے والی لڑائی عالمی قوانین کے تحت ’مسلح لڑائی‘ کہی جا سکتی ہے اور مسلح لڑائی میں شامل تمام فریقوں کو عالمی ضابطوں کی پابندی کرنی ہوتی ہے۔

حزبِ اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ باغیوں کے گھات لگا کر کیے گئے حملے میں سکیورٹی دستوں کے پندرہ اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

فری سیرین آرمی کی جانب سے شمالی صوبے الیپو میں کیے گئے اس حملے میں دو باغی بھی مارے گئے تھے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں کہ جب بارہ اپریل کی جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری تھے اس وقت بھی شامی فوج کی جانب سےلوگوں کے گھر تباہ کرنے اور ہلاکتوں کا سلسلہ جاری تھا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ مارچ کے اواخر اور اپریل کے آوائل میں شام کی فوج نے سینکڑوں گھروں کو آگ لگائی اور کم از کم 95 شہریوں کو ہلاک کیا تھا۔

تنظیم کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے شامی فوج نے جنگ بندی سے پہلے زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے لیے ہر لحمے کا بھر پور استعمال کیا۔

38 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں شمالی عدلیب میں درجنوں ہلاکتوں اور شہریوں کے املاک کو تباہ کیے جانے کی تفصیل دی گئی ہے جو جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سکیورٹی دستوں نے درجنوں لوگوں کو بغیر کسی قانونی جواز کے حراست میں رکھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر بشارالاسد کی جانب سے سیاسی قیدیوں کی رہائی کے وعدوں کے باوجود آج بھی دو تہائی سیاسی قیدی جیلوں میں بند ہیں۔

اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان کی جانب سے تیار کردہ امن منصوبے کے تحت 12 اپریل کو جنگ بندی شروع ہوئی تھی جس کے بعد سے تشدد میں کمی تو آئی ہے تاہم شام میں تعینات اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کا کہنا ہے کہ تصادم اب بھی جاری ہے اور دونوں فریق شہری علاقوں میں بھاری اسلحے کا استعمال کر رہے ہیں جو کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔

شامی اہلکار ملک میں جاری تشدد اور ہلاکتوں کے لیے ’غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردوں‘ کو ذمہ دار ٹہراتے ہیں۔

اسی بارے میں