چین اور امریکہ، اہم مذاکرات کا چوتھا دور شروع

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دونوں ممالک کو اختلافی رائے رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے: ہو جنتاؤ

امریکہ اور چین کے درمیان بیجنگ میں انتہائی اہم نوعیت کے سٹریٹیجک اینڈ اکنامک ڈائیلاگ کے چوتھے دور آغاز ہوگیا ہے۔

امریکی انتظامیہ کی نمائندگی انتہائی اعلٰی اہلکار وزیرِخارجہ ہلری کلنٹن اور وزیرِ خزانہ ٹموتھی گیتھنر کررہے ہیں۔ ان مذاکرات کا محور معیشت کے معاملات اور امور خارجہ کے اہم مسائل ہیں۔

اپنے افتتاحی خطاب میں ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ امریکہ تمام دنیا کے مسائل حل نہیں کرسکتا تاہم آپس میں تعاون کے بغیر مسائل کا حل ہونا مشکل ہوتا ہے۔

چین کے صدر ہو جنتاؤ نے کہا کہ دونوں ممالک کو اختلافی رائے رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کا کہنا ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان سٹریٹیجک اینڈ اکنامک ڈائیلاگ کا یہ چوتھا دور ہے۔

ان مذاکرات کے دوران اہلکاروں کو امید ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے کے طریقوں اور میکرو اکنامک پالیسیوں میں ربط بہتر بنانے کے سلسلے میں تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

ان کے علاوہ عالمی معیشت کے اہم مسائل، دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت اور بین الاقوامی اور علاقائی مسائل کے حل کے لیے تعاون بڑھانے پر بھی بات کی جائے گی۔

چینی خبررساں ادارے کا کہنا ہے کہ چینی صدر ہو جنتاؤ نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ چین اور امریکہ کو روایتی یقین کو توڑنا ہوگا کہ بڑی طاقتیں تنازع میں الجھیں گی اور اس کے بجائے بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کے نئے راستے تلاش کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا ’دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں اور دونوں ممالک کو اپنے اندرونی حالات سے بالاتر ہو کر یہ عزم کرنا ہوگا کہ شراکت داری میں تعاون کو فروغ دیں گے اور دونوں بڑے ممالک نئے طرز کے تعلقات قائم کریں گے۔‘

اسی بارے میں