قاہرہ: جھڑپوں کے بعد کرفیو نافذ

قاہرہ میں مظاہرے تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گڑ بڑ اس وقت شروع ہوئی جب مظاہرین نے فوج کی وارننگ کو نظر انداز کیا

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے بعد شہر میں وزارتِ دفاع کے آس پاس کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

جھڑپیں جمعہ کو اس وقت شروع ہوئیں جب مظاہرین نے فوج کی وارننگ کو نظر انداز کیا اور وزارتِ دفاع کی عمارت کی طرف بڑھنے کی کوشش کی۔

مظاہرین نے جب خاردار تاروں کو توڑنے کی کوشش کی تو اس وقت فوج نے پانی کی توپوں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم ایک فوجی ہلاک اور درجنوں دیگر افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

فوج نے وزارتِ دفاع کے سامنے سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی توپوں کا استعمال کیا اور درجنوں افراد کو گرفتار کیا۔

منتشر ہونے والے مظاہرین میں سے کچھ واپس تحریر سکوائر چلے گئے جہاں انہوں نے دوبارہ مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ حملہ اس نے خود کروایا ہے۔

کئی گھنٹے جاری رہنے والی جھڑپوں میں دونوں طرف سے ایک دوسرے پر پتھر پھینکے گئے۔

بعد میں وزارتِ صحت کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا کہ ایک فوجی ہلاک جبکہ تین سو کے قریب دیگر افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ایک سو تیس کے قریب افراد کو ہسپتال پہنچایا گیا۔

فوج نے کہا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے افراد کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلے گا۔

یہ تشدد کے واقعات صدارتی انتخابات سے تین ہفتے قبل ہو رہے ہیں جو صدر حسنی مبارک کا اقتدار ختم ہونے کے بعد پہلے صدارتی انتخابات ہوں گے۔

اسی بارے میں