برطانیہ: مقامی حکومتوں کے انتخابات میں لیبر کی واپسی

لیبر کے رہنما ایڈ ملی بینڈ تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption لیبر نے پورے ملک میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی ہے

برطانیہ میں ہونے والے مقامی حکومتوں کے انتخابات کے بعد لیبر پارٹی کے رہنما ایڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ ’لیبر جماعت پورے ملک میں آپ کی طرف واپس آ گئی ہے۔‘

انہوں نے یہ بیان انگلینڈ، ویلز اور سکاٹ لینڈ میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد دیا۔

لیبر نے کل 823 کونسلرز کی نشستوں میں اضافہ کیا ہے جبکہ کنزرویٹو جماعت کو 405 اور لیبرل ڈیموکریٹس کو 336 نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔

نتائج کے سامنے آنے کے بعد برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ وہ خسارہ سے نمٹنے کے لیے ’مشکل فیصلے‘ کرتے رہیں گے۔

ساؤتھیمپٹن میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے لیبر جماعت کے رہنما ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ ان کی جماعت کی انتخابی مہم کا محور وہ چیزیں تھیں جن سے لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

ان کی جماعت نے جنوب مشرقی انگلینڈ اور وسط یعنی مڈلینڈز، برمنگھم، پلے موتھ، ریڈنگ، نارچ، تھرک اور ہارلو میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

لیکن تقریر کے تھوڑی ہی دیر کے بعد لیبر رہنما کو ساؤتھیمپٹن میں ایک شخص نے انڈا مار دیا جو ان کے کاندھے پر لگا۔

ایک سو اٹھائیس برطانوی کونسلوں میں چار ہزار سات سو نشستوں پر یہ انتخابات ہوئے ہیں۔

لندن میں بھی میئر کے انتخاب کی دوڑ میں کنزرویٹو پارٹی کے موجودہ میئر بورس جانسن ایک مرتبہ پھر فاتح قرار پائے ہیں اور دوبارہ لندن کے میئر منتخب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے لندن کے سابق میئر کین لونگسٹن کو بہت ہی کانٹے دار مقابلے کے بعد شکست دی۔ کیونکہ بورس جانسن پچاس فیصد سے زائد ووٹ نہیں حاصل کر پائے تھے اس لیے بیلٹ پیپر پر دوسری ترجیح کی گنتی ہوئی اور اس میں وہ فاتح قرار پائے۔

لیبر کے امیدوار کین لونگسٹن نے کہا ہے کہ یہ ان کا آخری الیکشن تھا۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ جیتنے کے بعد ٹرانسپورٹ کے کرائے کم کر دیں گے اور کنزرویٹو جماعت کے امیدوار بورس جانسن کا انتخابی وعدہ کونسل ٹیکس کم کرنے اور ملازمتوں کے مواقع زیادہ پیدا کرنے کا تھا۔

اسی بارے میں