قاہرہ: جھڑپوں کے بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریاں

قاہرہ میں مظاہرے تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قاہرہ میں وزارتِ دفاع کی عمارت کے گرد و نواح میں رات کا کرفیو نافذ ہے

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں فوجی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے بعد گرفتار کیے جانے افراد میں تین سو سے زائد ابھی بھی زیرِ حراست ہیں۔

جمعہ کو وزارتِ دفاع کے سامنے شروع ہونے والی جھڑپوں میں ایک فوجی ہلاک اور درجنوں دیگر افراد زخمی ہو گئے تھے۔

تشدد اس شروع وقت ہوا جب مظاہرین نے فوج کی وارننگ کو نظر انداز کیا اور وزارتِ دفاع کی عمارت کی طرف بڑھنے کی کوشش کی۔ مظاہرین نے جب خاردار تاروں کو توڑنے کی کوشش کی تو اس وقت فوج نے پانی کی توپوں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

سنیچر کی رات کو بھی وزارتِ دفاع کے ارد گرد کے علاقے میں رات کا کرفیو نافذ رہے گا۔ یہ رات کے کرفیو کا لگاتار دوسرا دن ہے۔

یہ تشدد کے واقعات صدارتی انتخابات سے تین ہفتے قبل ہو رہے ہیں جو صدر حسنی مبارک کا اقتدار ختم ہونے کے بعد پہلے صدارتی انتخابات ہوں گے۔

برسرِ اقتدار فوجی کونسل کے سربراہ فیلڈ مارشل محمد تنتاوی نے سنیچر کو ہلاک ہونے والے فوجی کے جنازے میں شرکت کی۔

تشدد کے بعد سے لے کر اب تک علاقے میں نسبتاً سکون ہے۔ علاقے میں کرفیو مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے سے شروع ہوتا ہے اور صبح چھ بجے تک رہتا ہے۔

مظاہرین اس بات پر احتجاج کر رہے تھے کہ فوج بدھ کو ایک مظاہرے کے دوران مسلح افراد کی طرف سے احتجاج کرنے والوں پر حملے کو روکنے میں ناکام رہی جس میں کم از کم بیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بی بی سی کے جان لین کے مطابق اتنے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں بدھ کو ہونے والے حملے کے حوالے سے بالکل متضاد ہیں کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ ابھی تک اس حملے کے سلسلے میں کسی کو بھی گرفتار یا ملزم قرار دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں