نیویارک، ہزارہ برادری کا احتجاجی مظاہرہ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 5 مئ 2012 ,‭ 11:27 GMT 16:27 PST

مظاہرے کو مغربی میڈیا کی ایک بڑی تعداد نے کور کیا

امریکی شہر نیویارک میں ہزارہ برادری نے پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں ہزارہ لوگوں پر حملوں کے خلاف اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

جمعہ کی دوپہر کو امریکہ میں رہنے والی پاکستانی نژاد ہزارہ برادری کی عورتوں، مردوں اور بچوں کی ایک خاصی تعداد اس مظاہرے میں شامل تھی۔

مظاہرے میں کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر حصوں میں تشدد کا شکار ہونیوالے ہزارہ برادری کے افراد کے لواحقین نے بھی شرکت کی ہے۔

مظاہرین کے نعرے اور ان کے ہاتھوں میں احتجاجی کتبے، بینرز اور تصویریں خاص طور پر مظاہرے کو دیکھنے والے اور اقوام متحدہ کو کور کرنے والے میڈیا کے اراکین کی خاص توجہ کا مرکز بنے رہے۔

اس مظاہرے کا انعقاد ہزارہ برادری کی تنظیم ہزارہ آرگنائزیشن آف پروگریس اینڈ ایکوالٹی نے کیا تھا۔

مظاہرین کے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے بینروں میں ایک پر پاکستانی پرچم کے سبز رنگ پر خون کے دھبوں کی علامت بنائی گئی تھی جس میں علامتی طور پر پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف تشدد و جبر کو ظاہر کیا گیا تھا۔

ديکر بینروں میں ایک بینر پر لکھا تھا’یہ قائداعظم کا پاکستان نہیں‘ جبکہ ایک اور کتبے پر تحریر تھا کہ’کیا دہشتگردوں کا اگلا ہدف مزارِ قائد ہوگا؟‘

مظاہرین نے احتجاجی کتبے اٹھا رکھے تھے

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے احتجاج میں شریک ہزارہ برادری کے محمد موسیٰ نے بتایا کہ چار سال قبل کوئٹہ کے علمدار روڈ پر ماتمی جلوس پر دہشت گردوں کے ہاتھوں بم حملے میں ان کی بیوی، ایک بیٹے اور ایک بھائي سمیت ان کے گھر کے تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

محمد موسیٰ کا کہنا تھا کوئٹہ سمیت پاکستان میں ہزارہ لوگوں کے خلاف تشدد کا سلسلہ پاکستان کے فوجی صدر مشرف کے دور میں شروع ہوا اور موجودہ حکومت میں بھی بغیر روک ٹوک جاری ہے۔

ایک پاکستانی نژاد ہزارہ نوجوان محمد عباس نے بتایا کہ ہزارہ برادری کے خلاف تشدد کو نہ روکنا حکومت کی نا اہلی ہے، اگر حکومت چاہے تو ہزارہ مقتولین کے قاتل گرفتار ہو سکتے ہیں جیسا کہ کچھ عرصہ قبل کوئٹہ میں انسداد منشیات ٹاسک فورس کے حوالات پر حملے کے ذمہ داران کو گرفتار کیا گیا تھا۔

امریکہ میں رہنے والے پاکستانی نژاد ہزارہ برادری کی طرف سے نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر کے سامنے یہ اس مظاہرے کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے جبکہ یورپ اور آسٹریلیا میں ہزارہ افراد کے طرف سے بڑے شہروں میں بھی کئی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

ہزارہ مظاہرے میں معروف پاکستانی کارٹونسٹ صابر نذر کے کارٹونوں کی نمائش بھی کی گئي تھی جس میں فوجی آمر ضیا کے دنوں سے لےکر تاحال مرحلہ وار پاکستان میں انتہا پسندی و دہشتگردی کو ابھرتے دکھایا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔