بورس جانسن دوسری مرتبہ لندن کے میئر منتخب

 boris johnson تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

برطانیہ میں کنزرویٹو جماعت کے رہنماء بورس جانسن نے دوسری مرتبہ لندن کا میئر منتخب ہونے پر کہا ہے کہ وہ ان تھک محنت کریں گے۔

کنزرویٹو جماعت کے بورس جانسن نے لیبر جماعت کے کین لونگسٹن کو تین فیصد سے شکست دی۔

بورس جانسن نے کہا ’میں لندن کے لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کے انہوں نے دوسری مرتبہ مجھے منتخب کیا۔‘

انتخابات میں شکست کھانے والے کین لونگسٹن نے کہا کہ ’مجھے اپنی باقی کی تمام زندگی اس بات پر ملال رہے گا کہ ہم یہ انتخاب نہیں جیت سکے کیونکہ یہ لوگوں کی زندگیوں میں بہت تبدیلی لا سکتا تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا ’میں حقیقتاً اداس ہوں۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اب میں ریٹائرڈ ہوگیا ہوں۔ میں اب اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گذار سکتا ہوں، اپنے کتے کے ساتھ چہل قدمی اور باغبانی کر سکتا ہوں۔‘

’لیکن انتخاب جیتے کے بعد ہم لندن کے لوگوں کی مدد کے لیے بہت کچھ کر سکتے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شکست کھانے والے کین لونگسٹن نے کہا کہ انہیں اپنی باقی کی تمام زندگی اس بات پر ملال رہے گا کہ وہ یہ انتخاب نہیں جیت سکے۔

انتخابات جیتنے والے بورس جانسن نے کہا ’میں اور میری ٹیم ان تھک محنت کریں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس فتح سے انہیں ٹیوب نیٹ ورک کے خود کار نظام، پولیس کی تعداد میں اضافے اور جرائم کے خاتمے کے لیے عوامی حمایت حاصل ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ لندن میں اولمپکس گیمز کے انعقاد کے حوالے سے بھی پر عزم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا کے عظیم ترین شہر میں عظیم ترین اولمپکس کے انعقاد میں صرف تراسی دن رہ گئے ہیں۔‘

انہوں نے سٹی ہال میں مختصر خطاب سے قبل اپنے عہدے پر تعیناتی کے معاہدے پر دستخط کیے۔

لیبر کے امیدوار کین لونگٹسن نے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ جیتنے کے بعد ٹرانسپورٹ کے کرائے کم کر دیں گے اور کنزرویٹو جماعت کے امیدوار بورس جانسن کا انتخابی وعدہ کونسل ٹیکس کم کرنے اور ملازمتوں کے مواقع زیادہ پیدا کرنے کا تھا۔

اسی بارے میں