فرانس: صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ، پولنگ جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پہلے مرحلے میں اولاند کو سرکوزی پر دو فیصد کے قریب برتری ملی تھی

فرانس میں صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں اتوار کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔

صدر کے عہدے کے لیے موجودہ صدر نکولس سرکوزی اور سوشلسٹ امیدوار فرانسوا اولاند کے مابین مقابلہ ہے۔

پہلے مرحلے میں سوشلسٹ فرانسوا اولاند کو اٹھائیس اعشاریہ چھ فیصد ووٹ ملے تھے جبکہ موجودہ صدر نکولس سرکوزی نے چھبیس اعشاریہ دو فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔اور سنہ انیس سو اٹھاسی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ فرانس میں سوشلسٹ صدر کے برسرِاقتدار آنے کا امکان پیدا ہوا ہے۔

بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور اقتصادی بحران ہی اس انتخابی مہم کے اہم موضوعات رہے۔

یورو زون قرض معاہدے میں پیش پیش رہنے والے نکولس سرکوزی کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسادبازاری کا راستہ روکا ہے اور وہ ایک ’مضبوط فرانس‘ کا تحفظ کریں گے جبکہ ان کے مخالف فرانسوا اولاند کے مطابق ملک اس وقت بڑے بحران کا شکار ہے اور اسے تبدیلی کی ضرورت ہے۔

صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں فرانس کے بیشتر علاقوں اور کورسیکا میں مقامی وقت کے مطابق پولنگ صبح آٹھ بجے سے چھ بجے شام تک جاری رہے گی جبکہ بڑے شہروں میں ووٹنگ مراکز مزید دو گھنٹے کھلے رہیں گے۔

دونوں صدارتی امیدواروں نے جمعہ تک اپنی انتخابی مہم چلائی اور اس دوران انہوں نے بدھ کو ایک ٹی وی مباحثے میں بھی شرکت کی جسے ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد نے براہِ راست دیکھا۔

اس الیکشن کے لیے فیورٹ سمجھے جانے والے فرانسوا اولاند کا کہنا ہے کہ ووٹنگ کے دن ووٹ ڈالنے کی شرح نتائج پر اثرانداز ہو سکتی ہے جبکہ نکولس سرکوزی کے مطابق آج تک فرانس میں کوئی الیکشن اتنا غیریقینی نہیں رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آج تک فرانس میں کوئی الیکشن اتنا غیریقینی نہیں رہا ہے:سرکوزی

فرانس میں اس صدارتی انتخاب کے بعد جون میں پارلیمانی انتخابات بھی ہونے ہیں۔

یونان میں الیکشن

یونان میں بھی پارلیمانی انتخابات کے سلسلے میں اتوار کو پولنگ ہو رہی ہے۔

یورو زون اقتصادی بحران کی جائےِ پیدائش یونان میں اتوار کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ملک کی دو بڑی جماعتوں کو کفایت شعاری اقدامات کے مخالفین کی جانب سے شدید مقابلے کا سامنا ہے۔

پاسوک اور نیو ڈیموکریسی نامی یہ جماعتیں گزشتہ برس نومبر سے اتحادی حکومت قائم کیے ہوئی ہیں۔

یونان میں حالیہ انتخابات کو حکومتی سطح پر کفایت شعاری کے اقدامات پر ریفرنڈم سمجھا جا رہا ہے۔ یہ اقدامات اس وقت لاگو کیے گئے جب دیوالیے سے بچنے کے لیے یونان کو یورپی برادری سے امداد لینا پڑی۔

ان انتخابات میں کسی ایک جماعت کے اکثریت حاصل کرنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

یہ بات انتہائی اہم ہو گی کہ یونان میں نئی حکومت کفایت شعاری کے پروگرام کو کیسے جاری رکھتی ہے تاکہ اسے یورپی یونین، یورپ کے مرکزی بینک اور آئی ایم ایف سے امداد ملتی رہے۔

دریں اثناء سربیا کی عوام بھی اتوار کے روز لوکل، پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے مرحلے سے گزرے گی۔ آج جبکہ سربیا کے تقریباً ایک چوتھائی لوگ بے روزگار ہیں، معیشت انتخابات میں ایک اہم موضوع ہے۔

اسی بارے میں