فرانسوا اولاند، ایک تجربہ کار سیاسی منتظم

اولاند تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسٹر ہولاند معتدل طبیعت کے آدمی ہیں

فرانس کے سوشلسٹ رہنما فرنسوا اولاند صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد جشن منانے میں مصروف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ وہ لوگوں میں امید کی کرن دوبارہ پیدا کر سکے۔

سنہ انیس سو اسّی کے بعد وہ فرانس کے صدارتی انتخابات جیتنے والے پہلے سوشلسٹ رہنما ہیں۔ اس سے قبل سنہ اسّی میں فرانسوا متراں نے کامیابی حاصل کی تھی۔

معتدل طبیعت کے حامل اولاند برسوں سے سیاست میں ہیں اور تجربہ کار سیاسی منتظم کہے جاتے ہیں حالانکہ اس سے پہلے انہوں نے کوئي سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا ہے۔

نکولس سرکوزی کے مقابلے میں اولاند حلیم الطبع اور خاموش مزاج کے شخص ہیں اور اس کے لیے انہیں بعض افراد سست بھی کہتے ہیں جبکہ قدامت پسند خیالات کے سرکوزی کا رویہ گلیمرس تھا۔

صدارتی انتخابات سے پہلے تک وہ سکوٹر پر کام کے لیے جانے کو ترجیح دیتے تھے اور ان کے حامی یہ کہیں گے کہ مرد آہن ملک کی انتظامیہ سنبھالنے والا ہے۔

صدارتی انتخابات میں امید وار بننے سے پہلے انہیں اپنی ہی پارٹی میں دوسرے رہنماؤں سے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا جہاں ان کی سیاسی اور نجی زندگی کا کڑا امتحان ہوا۔

فرانسوا اولاند بارہ اگست سنہ انیس سو چون کو شمال مغربی شہر روئین میں پیدا ہوئے تھے۔ طالب علمی کے زمانے سے ہی وہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے اور سنہ انیس سو اناسی میں انہوں نے سوشلسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

سنہ اٹھاسی سے وہ کوریز حلقے سے پارلیمان کے رکن رہے۔ سنہ انیس سو ستانوے میں انہوں نے پارٹی کی قیادت سنبھالی اور یہ عہدہ ان کے پاس ایک عشرے سے بھی زیادہ عرصے تک رہا۔

دو ہزار آٹھ میں جب ان کی جماعت کی محترمہ رائل سرکوزی سے صدارتی انتخابات ہار گئیں تو تلخیوں کے سبب وہ پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہوگئے۔

بعد میں یہ بات ظاہر ہوئي کہ معروف صحافی ویلیری ٹریویلئر کے ساتھ ان کے تعلقات ہیں۔ محترمہ ویلیری ایک میگزین ’پیرس میچ‘ میں سیاسی امور کی صحافی ہیں اور تب سے مسٹر اولاند انہی کے ساتھ رہتے ہیں۔

محترمہ رائل اور ہولاند کے درمیان اختلافات کے سبب پارٹی کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد ہی دو ہزار گیارہ میں نیویارک میں پارٹی کے رہنما سٹراس کان کی گرفتاری ہوئی جس سے اور بحران پیدا ہوا

اس صورت حال میں ان صدارتی انتخابات کے لیے فرانسوا اولاند کو ہی پارٹی کا مناسب امیدوار سمجھا گيا اور یہ انتخاب اس وقت درست ثابت ہوا جب انہوں نے نکولس سرکوزی کو شکست دی۔

مسٹر اولاند کی شخصیت اور صلاحیت کی تعریف ان کے مخالفین نے بھی کی ہے۔ قدامت پسند رہنما ژاک شیراک نے ان کے متعلق کہا تھا کہ ’وہ صحیح معنوں میں ایک مبصر ہیں‘۔

اسی بارے میں