’القاعدہ مشترکہ دشمن ہے، کوئی اطلاع ہے تو فراہم کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کوئی مخصوص اطلاع ہے تو پاکستان کو دیں

پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ اگر القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں کوئی مخصوص انٹیلی جنس اطلاع ہے تو حکومت کو فراہم کی جائے۔

یہ بات انہوں نے پارلیمان کی قومی سلامتی کی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے اپنی امریکی ہم منصب ہیلری کلنٹن کی جانب سے بھارت کے دورے کے دوران ایمن الظواہری کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں دیے گئے بیان پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ القاعدہ مشترکہ دشمن ہے اور اگر امریکہ کے پاس کوئی معلومات ہے تو وہ فراہم کی جائے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ ہیلری کلنٹن کا ایمن الظواہری کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں بھارت میں بیٹھ کر بیان دینے سے بظاہر لگتا ہے ایک طرف انہوں نے پاکستان پر دباؤ ڈالا ہے تو دوسری طرف بھارت کو خوش کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ سے بات چیت چل رہی ہے، ڈرون حملوں کے بارے میں پاکستان اور امریکہ کا اپنا اپنا موقف ہے اور کسی نتیجے پر پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

پاکستان کے وزیر دفاع احمد مختار کے اس بیان پر کہ اگر نیٹو سپلائی بحال نہ ہوئی تو پاکستان پر پابندیاں لگ سکتی ہیں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے، وزیر خارجہ نے کہا انہیں اس بارے میں علم نہیں ہے اور وزیر دفاع ہی مزید کچھ بتا سکتے ہیں۔

قبل ازیں قومی سلامتی کے بارے میں پارلیمان کی کمیٹی کو وزارت خارجہ، دفاع اور خزانہ کے اعلیٰ اہلکاروں نے بریفنگ دی۔ جس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے کہا کہ وہ مطمئن ہیں کہ حکومت پارلیمانی سفارشات کی روشنی میں درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ڈرون حملے جاری رہنے کے بارے میں لیون پنیٹا اور ایمن الظواہری کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں ہیلری کلنٹن کے بیانات نامناسب ہیں اور اس سے دونوں ممالک میں فضا خراب ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری پر کھلا وار ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔

اسی بارے میں