ولاد یمیر پوتن پھر روس کے صدر بن گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ولاد میر تیسری بار روس کے صدر بنے ہیں

روس کے دارالحکومت ماسکو میں ایک شاندار تقریب میں روسی رہنما ولادیمیر پوتین نے بطور صدر اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے۔

چار برس کے وقفے کے بعد وہ روس کے دوبارہ صدر بنے ہیں اس دوران وہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز تھے۔

پوتین نے مارچ میں منعقدہ متنازعہ صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ خیال کیا جاتا ہے سبکدوش ہونے والے صد دیمتری مدایدیو، پوتین کے قریبی اتحادی ہیں۔

اتوار کو ہزاروں مظاہرین نے اس موقع پر صدر کے خلاف مظاہرہ کیا اور مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

مسٹر پوتین نےگـرانڈ کرملن پیلیس اے ایک ایسے ہال میں عہدہ صدارت کا حلف اٹھایا جو کسی زمانے میں روسی زار کا تخت ہوا کرتا تھا۔

اس موقع پر اپنے مختصر خطاب میں مسٹر پوتین نے کہا کہ ’روس قومی ترقی کے نئے دور میں داخل ہورہا ہے۔ ہمیں نئي طرز کے کاموں کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے، ایک نئي کوالٹی اور نئے پیمانے، اور روس کی تبدیلی کا عمل جاری رہنا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ دیمتری مدیودیو نے روس کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم اہنگ کرنے کے لیے جاری کوششوں میں نئی جان پھونکی ہے اور یہ تبدیلی جاری رہنی چاہیے۔ مسٹر پوتین نے روس کی جمہوریت اور آئینی حقوق کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر بھی پر زور دیا۔

اگر پوتین نے صدارتی مدت کے چھ برس پورے کر لیے تو پھر وہ جوزف سٹالن کے بعد روس میں سب سے زیادہ عرصے تک اقتدار میں رہنے والے شخص بن جائیں گے۔

انہیں کئي محاذوں پر مشکلات کا سامنا ہے اور سب سے بڑا مسئلہ معشیت کا ہے جس کے سست ہونے کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔ شمالی کوہ کاف کے علاقوں میں تشدد بھی جاری ہے۔

ملک میں ان کے مخالف بھی بہت ہیں جس کے سبب سیاسی بے چینی ہے اور ان کے خلاف مظاہرے بھی ہوتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں