یمن: ’ڈرون حملے میں القاعدہ رہنما ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکہ نے فہد کی گرفتاری میں مدد دینے والے کے لیے پچاس لاکھ ڈالر کا انعام رکھا ہوا تھا

یمن میں ہونے والے ایک مبینہ امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے رہنما فہد القصی ہلاک ہوگئے ہیں۔

وہ سنہ دو ہزار میں امریکی جنگی بحری جہاز یو ایس ایس کول پر ہونے والے حملے کی سازش کے لیے مطلوب تھے۔

اس حملے میں امریکی ڈرون طیارے نے دو میزائل داغے اور فہد کے علاوہ ایک اور شخص بھی ان میزائلوں کا نشانہ بنا۔

القاعدہ اور امریکہ میں یمن کے سفارتخانے نے فہد القصی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

امریکہ نے فہد کی گرفتاری میں مدد دینے والے کے لیے پچاس لاکھ ڈالر کا انعام رکھا ہوا تھا۔

ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے القاعدہ کے رہنما کی ہلاکت کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فہد امریکہ اور یمن میں مزید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

یمن کی بندرگاہ عدن میں لنگرانداز یو ایس ایس کول پر اکتوبر دو ہزار میں بارودی مواد سے بھری کشتی سے حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے میں سترہ امریکی ملاح ہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے تھے۔

امریکہ نے تاحال سرکاری طور پر یمن میں شدت پسندوں کے خلاف ڈرون طیاروں کے استعمال کا اقرار نہیں کیا ہے لیکن رواں سال میں ہی اب تک وہ مبینہ طور پر ایسے آٹھ حملے کر چکا ہے۔

اسی بارے میں