کم عمرلڑکیوں سے سیکس، نو افراد کو سزا

تصویر کے کاپی رائٹ press association
Image caption عدالت نے ان افراد کو زنا اور کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی فعل کرنے کی سازش کرنے کے جرم میں سزا سنائی ہے

برطانیہ کے شہر لیور پول کی ایک عدالت نے کم عمر لڑکیوں سے جنسی فعل کرنے کے جرم میں ایک گروہ کے نو افراد کو چار سے انیس برس تک قید کی سزا سنائی ہے

ان اشخاص پر الزام تھا کہ انہوں نے کم عمر لڑکیوں کو جنسی ضرورت کے لیے تیار کیا اور پھر انہیں حوس مٹانے کے لیے نہ صرف خود استعمال کیا بلکہ ان لڑکیوں کو بطور تحفہ دوسرے افراد کو پیش کرتے تھے۔

عدالت نے اس گروہ کے انسٹھ سالہ سرغنہ کو انیس برس قید کی سزا سنائی ہے۔ قانونی وجوہات کی وجہ سے گروہ کے سرغنہ کا نام شائع نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے گروہ کے انسٹھ سالہ سرغنہ کو ریپ اور ریپ میں مدد دینے کے جرم میں انیس برس قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نے اس شخص کو ایک ’مکروہ اور منافق غنڈہ‘ قرار دیا جو نہ صرف خود ان لڑکیوں کے ساتھ ریپ کرتا تھا بلکہ ان کم عمر لڑکیوں کو بطور تحفہ پیش کرتا تھا۔ اس شخص نے ایک کم عمر لڑکی کو پچیس سالہ کبیر حسن کے یوم پیدائش پر اسے تحفے کے طور پر پیش کیا۔

ان تمام افراد کا تعلق لیور پول کے علاقے روچڈیل اور اولڈہم سے ہے۔ جن اشخاص کو جیل کی سزا سنائی گئی ہے ان میں پچیس سالہ کبیر حسن، اکتالیس سالہ عبد العزیز، تینتالیس سالہ عبد الراؤف، بیالیس سالہ عادل خان، پینتالیس سالہ محمد امین، چوالیس سالہ عبد القیوم، پینتیس سالہ محمد ساجد اور بائیس سالہ حامد سفی شامل ہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ حامد سفی کو سزا کے خاتمے پر افغانستان بدر کر دیا جائے۔

عدالت نے ان افراد کو ریپ اور کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی فعل کرنے کی سازش کرنے کے جرم میں سزا سنائی ہے۔

لیور پول کی کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ یہ گروہ پانچ کم عمر لڑکیوں کو اپنے مقاصد کے لیے شراب اور منشیات مہیا کرتے تھے اور روچڈیل کے ہیوڈ علاقے میں واقع دو چھوٹے ریسٹورانٹ پر ان کے ساتھ جنسی عمل کیا جاتا تھا۔

جج جیرالڈ کلفٹن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ان تمام ملزمان کا محرک جنسی حوس اور لالچ تھا۔ جج نے ان ملزمان کو بتایا کہ انہوں نے ان کم عمر لڑکیوں کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جیسے ان کی کوئی عزت نہیں ہے اور وہ معاشرے کی بیکار فرد ہیں۔

عدالت نے گروہ کے انسٹھ سالہ سرغنہ کو ریپ اور ریپ میں مدد دینے کے جرم میں انیس برس قید کی سزا سنائی ہے۔