ناروے: بریوک کو جوتا مارنے کی کوشش

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جوتا پھینکے جانے کے واقع پر عدالت میں موجود لوگ بے ساختہ تالیاں بجانے لگے۔

ناروے میں گزشتہ جولائی میں ستتر افراد کو ہلاک کرنے والے انرش بہرنگ بریوک کے خلاف جاری مقدمے کی سماعت اس وقت کچھ دیر کے لیے روکنی پڑی جب ہلاک ہونے والے ایک شخص کے بھائی نے ملزم کو جوتا دے مارا۔

تاہم یہ جوتا ملزم کی بجائے ان کے وکیل کو جا لگا۔

جوتا پھینکنے والے شخص انہوں نے عدالت کے اندر اونچی آواز میں بریوک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’تم نے میرے بھائی کو قتل کیا، تم جہنم میں جاؤ!‘

تیتیس سالہ انرش بریوک نے گزشتہ سال بائیس جولائی کو ’یوتھ سمر کیمپ‘ میں انسٹھ افراد اور ایک بم دھماکے میں مزید آٹھ افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے تاہم انہوں نے دہشتگردی اور قتلِ عام کے الزامات کی تردید کی ہے۔

جمعہ کو عدالت میں بریوک پر جوتا پھینکے جانے پر وہاں موجود لوگ بے ساختہ تالیاں بجانے لگے۔

اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ جوتا پھینکنے والے کس ہلاک ہونے والے فرد کے بھائی تھے۔ اس واقعے کے بعد عدالت کے سکیورٹی اہلکار انہیں باہر لے گئے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق عراق سے ہے۔

ایک سکیورٹی گارڈ نے بعد میں بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ساتھیوں اور انہوں نے مل کر جلد ہی اس شخص کو قابو کر لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ واقع بالکل غیر متوقع نہیں کیونکہ عدالت میں بہت جذباتی سماں تھا۔

جوتا بریوک کے وکیل، وبیک ہیں بیئرا، کو اس وقت جا لگا جس عدالت میں پوسٹ مارٹم رپورٹس پیش کی جا رہی تھیں۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس واقعے پر بریوک کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی مجھ پر کچھ پھینکنا چاہتا ہے تو میرے اندر آنے یا جاتے ہوئے مجھ پر ہی پھینکے، میرے وکیل پر نہیں۔‘

جمعرات کو بھی ان واقعات سے بچ نکلنے والے اپنے اس دن کے خوف و ہراس کی حالت بیان کرتے رہے۔ اس سے پہلے جب عدالت میں ہلاک ہونے والوں کی تفصیلات پیش کی جا رہی تھیں تو ہلاک ہونے والوں کے بہت سے رشتہ دار آب دیدہ دکھائی دیے۔

انرش بریوک کا کہنا تھا کہ انہوں نے ناروے کو تارکینِ وطن اور اسے کثیر الثقافتی معاشرہ بننے سے روکنے کے لیے یہ اقدامات کیے۔ اس مقدمے کا نتیجہ اس سوال پر مبنی ہے کہ کیا انرش بریوک کا ذہنی توازن درست ہے یا نہیں تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ انہیں جیل بھیجنا ہے یا پھر پاگل خانے؟

اسی بارے میں