’پاسپورٹ کے اجرا پر پیش رفت نہیں‘

شین گوانشین تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شین گوان شین اپنے گھر پر نظربندی کے حالات میں بھاگ گئے تھے

منحرف چینی وکیل شین گوانشین کا کہنا ہے کہ چینی حکومت کے اس وعدے کے بعد وہ پڑھائی کے لیے امریکہ جاسکتے ہیں انکے پاسپورٹ کی درخواست پر کوئی پیش و رفت نہیں ہوئی ہے۔

تقریبا ایک ماہ پہلے شین گوانشین بیجنگ میں اپنے گھر پر نظربندی کی حالت میں وہاں سے بھاگ گئے تھے۔ امریکی سفارتخانے میں ایک ہفتہ پناہ لینے کے بعد اپنی مرضی سے وہاں سے چلے گئے تھے۔ وہاں سے باہر آنے کے بعد انہون نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ جب سے انہیں معلوم ہوا ہے کہ ان کے فرار ہونے کے بعد ان کی اہلیہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے تب سے وہ چین میں اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتے ہیں۔

شین گوانشین نے امریکہ میں سیاسی پناہ لینے کی درخواست دی تھی۔

شین گوان شین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انکی اس درخواست کے ایک ہفتے بعد بھی انکے پاسپورٹ سے کوئی پیش و رفت نہیں ہوئی ہے۔

انکا یہ بھی کہنا تھا کہ اس دوران کوئی چینی اہلکار ان سے ملنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی ان کے پاسپورٹ کا فارم بھرا گیا ہے اور نہ ہی فارم پر لگانے کے لیے فوٹو لی گئی ہے۔

واضح رہے کہ شین گوان شین کو چینی حکومت اور امریکہ نے اس بات کی اجازت دی تھی کہ وہ نیویارک یونیورسٹی میں وکالت کی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق امریکی یونیورسٹی میں انکے داخلے سے متعلق امریکہ کی جانب سے کاروائی پوری ہوچکی ہیں۔

مسٹر گوانشین فی الوقت چینی حکام کی نگرانی میں ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ہسپتال سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بی بی سی کو بتایا ’چینی حکام نے مجھ سے وعدہ کیا تھا وہ میری پوری مدد کریں گے لیکن حکام کی جانب سے مجھے کسی نے بات نہیں کی ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں میں کسی امریکی سفارتکار نہ بھی ان سے ملاقات کی ہے۔

واضح رہے کہ شین گوان شین نے جب سے جبراً اسقاط حمل اور نس بندی کے خلاف مہم شروع کی تھی اس وقت ہی سے مقامی کارکنان اور مغربی ممالک کی نظر ان پر تھی۔

شین گوان شین بچپن میں ہی نابینا ہوگئے تھے۔ انہوں نے باقاعدہ طور پر وکالت کی تعلیم حاصل نہیں کی ہے کیونکہ چین میں نابیناؤں کو کالج میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔

شین گوان شین حکومت کی ایک بچے والی پالیسی کے سبب ہونے والے استحصال سے متعلق حقائق پیش کرتے رہے ہیں اور صوبۂ شینڈاگ کے اہلکاروں پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہاں کم از کم سات ہزار خواتین کے جبراً اسقاط حمل اور نس بندی کی گئی ہے۔

اسی بارے میں