یمن میں مشتبہ امریکی ڈرون حملہ، دس شدت پسند ہلاک

آخری وقت اشاعت:  اتوار 13 مئ 2012 ,‭ 22:42 GMT 03:42 PST
yemen militants

امریکی خفیہ ادارے کے سربراہ رابرٹ ملر نے کہا تھا کہ یمن میں قائم القاعدہ اس وقت امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

یمن میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ دو مشتبہ امریکی ڈرون حملوں میں القاعدہ کے دس عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ فضائی حملے ملک کے جنوب میں مارب اور شابوا صوبوں میں ہوئے۔

تاہم یمن اور امریکہ دونوں ہی حکومتوں نے تاحال اس گمنام جاسوس طیارے سے تعلق کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

یمن میں فوجی دفاع کی وزرات کا کہنا ہے کہ پہلے فضائی حملے میں صوبے شابوا میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔

جبکہ دوسرا حملہ تیل کی پیداوار کے علاقے مارب میں ہوا۔ جہاں دو گاڑوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے۔

گذشتہ پیر کے روز یمن کے حکام نے کہاتھا کہ شابوا صوبے میں کئے گئے ایک فضائی حملے مںی القاعدہ کے رہنما فہد القوسو کو ہلاک کیا گیا ہے۔ جو سنہ دو ہزار میں ایک جنگی بحری جہاز پر بم حملے سے تعلق کے شبے میں مطلوب تھے۔

یمن کے حکام کا کہنا ہے کہ ملکی فورسز نے جنوبی صوبہ ابیاں میں ایک حملے کے دوران پندرہ شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

امریکہ نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ اس نے یمن میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر فوجی تربیت دوبارہ شروع کی ہے۔ یہ تربیت یمن میں سیاسی بدامنی کے باعث معطل کر دی گئی تھی۔

اسی ہفتے کے اوائل میں امریکی خفیہ ادارے کے سربراہ رابرٹ ملر نے کہا تھا کہ یمن میں قائم القاعدہ اس وقت امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔