افغانستان: افغان امن کونسل کے اہم رکن ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ارسلا رحمانی کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں مل چکی تھیں اور اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ وہ مسلح محافظوں کے بغیر کیوں سفر کر رہے تھے

افغانستان میں حکام کے مطابق دارالحکومت کابل میں نامعلوم مسلح افراد نے افغان امن کونسل کے ایک اہم رکن ارسلا رحمانی کو گولی مار کر کے ہلاک کر دیا۔

ارسلا رحمانی طالبان کے دور حکومت میں وزیر رہے اور اس وقت افغان امن کونسل کے سینیئر رکن تھے۔

افغان امن کونسل افغانستان میں قیامِ امن کے لیے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے قائم کی گئی ہے۔

ارسلا رحمانی افغان صدر حامد کرزئی کے قریبی ساتھی تھے اور افغان طالبان کمانڈرز کے ساتھ بات چیت میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔

ان کی ہلاکت سے افغان صدر حامد کرزئی کی افغانستان میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگے گا۔

پولیس کے مطابق اتوار کو ایک گاڑی میں سوار نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت فائرنگ کر کے ارسلا رحمانی کو ہلاک کر دیا گیا جب وہ کام کے سلسلے میں کابل کے مغربی علاقے میں جا رہے تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروری کا کہنا ہے کہ حملہ آور سفید رنگ کی ایک ڈیوٹا کرولا کار میں سوار تھے اور ارسلا رحمانی کو قتل کرنے کے لیے سائلنسر لگی بندوق سے صرف ایک گولی چلائی گئی۔

نامہ نگار کے مطابق ارسلا رحمانی کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں مل چکی تھیں اور اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ وہ مسلح محافظوں کے بغیر کیوں سفر کر رہے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق’ ارسلا رحمانی کے ڈرائیور کو فوری طور پر ان کے ہلاک ہونے کا اندازہ نہیں ہو سکا تھا۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ارسلا رحمانی طالبان قیادت کے پہلے اعلیٰ رکن تھے جو امن منصوبے میں شامل ہوئے۔

صدر حامد کرزئی کے ایک قریبی ساتھی نے نامہ نگار کو بتایا کہ ارسلا رحمانی کے قتل کے بعد اب دیگر طالبان رہنماؤں کو تشویش ہو گی۔

صدر حامد کرزئی طالبان کمانڈروں سے رابطے ارسلا رحمانی کے ذریعے کرتے تھے لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ وہ کتنے طالبان کمانڈرز کو امن منصوبے میں شامل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

اس کے علاوہ صدر حامد کرزئی طالبان قیادت کی سوچ اور ان کے کام کرنے کے طریقہ کار پر ارسلا رحمانی سے اکثر مشاورت کرتے تھے۔

رحمانی امن کونسل کی اس کمیٹی کے سربراہ تھے جو طالبان قیدیوں کو بگرام اور دیگر افغان جیلوں سے رہائی کے لیے کام کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption افغان امن کونسل کے چیئرمین برہان الدین ربانی گزشتہ سال ستمبر میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے تھے

افغانستان میں گزشتہ سال طالبان کے ساتھ امن کی کوششوں کو اس وقت دھچکا لگا جب ستمبر میں سابق صدر اور افغان امن کونسل کے سربراہ برہان الدین ربانی ایک خودکش حملے میں اس وقت ہلاک ہو گئے جب وہ طالبان رہنماؤں سے اپنی رہائش گاہ پر مذاکرات کر رہے تھے۔

برہان الدین ربانی کی ہلاکت کے بعد گزشتہ ماہ ان کے بیٹے نے صلاح الدین ربانی نے افغان امن کونسل کی قیادت سنبھالی ہے۔

افغان حکام کا دعوٰی کیا تھا کہ برہان الدین ربانی کے قتل کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوئی اور خودکش حملہ آور بھی ایک پاکستانی تھا۔

پاکستان نے برہان الدین ربانی کے قتل کی تحقیقات کے لیے افغانستان کو تعاون کی پیشکش کی تھی۔

اسی بارے میں