لیبیا:’نیٹو شہری ہلاکتوں کی تحقیقات کرے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

حقوق انسانی کی ایک بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے نیٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گزشتہ سال لیبیا میں فضائی حملوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکت کے واقعات کی جامع تحقیقات کرے۔

حقوق انسانی کی تنظیم کے مطابق نیٹو کے فضائی حملوں میں کم از کم بہّتر عام شہری ہلاک ہوئے تھے اور نیٹو کو جہاں مناسب ہو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

ہیومن رائٹس واچ کے اہلکار فریڈ ابراہم نے بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ہمارا مطالبہ ہے کہ ان واقعات کی فوری طور پر جامع اور قابل اعتماد تحقیقات ہونی چاہیے۔‘

نیٹو کا موقف ہے کہ اس نے لیبیا میں فضائی کارروائیوں کے دوران انتہائی احتیاط برتی تاکہ عام شہریوں کا نقصان کم سے کم ہو۔

نیٹو نے شہری ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ شہری ہلاکتوں کی تصدیق کے لیے ان کے اہلکار زمین پر موجود نہیں تھے۔

خیال رہے کہ نیٹو کو لیبیا میں صرف فضائی کارروائی کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔

گزشتہ سال لیبیا کے رہنما معمر قذافی کی حامی افواج کے خلاف فضائی کارروائی میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے حصہ لیا تھا اور اس دوران نو ہزار چھ سو اٹھاون بار جنگی جہازوں نے اڑان بھری۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

رواں سال مارچ میں حقوق انسانی کی ایک دوسری تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق نیٹو کی فضائی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے سولہ بچوں اور چودہ خواتین سمیت پچپن عام شہریوں کے نام اس کے پاس موجود ہیں۔

تنظیم کا کہنا تھا کہ نیٹو ان واقعات کی باقاعدہ تحقیقات کرنے میں ناکام رہا ہے جس پر اسے شدید مایوسی ہوئی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے اہلکار فریڈ ابراہم نے مزید کہا کہ نیٹو نے یہ جاننے کی کوشش نہ کی کہ کیا غلط ہوا اور اسے کس طرح ٹھیک کیا جا سکتا ہے، اس سے مستقبل میں عام شہریوں کی اموات کے غیر ضروی واقعات پیش آئیں گے۔

ہیومن رائٹس واچ کی پیر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس نے نیٹو کی فضائی کارروائیوں کے ان آٹھ مختف واقعات کے شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان میں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں ایک واقعے کا ذکر بھی ہے جس میں نیٹو کی فضائی کارروائی میں چودہ شہری ہلاک ہوئے اور جب لوگ جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیوں کے لیے پہنچے تو اس جگہ پر دوسرا بم گرایا گیا جس میں سترہ مزید ہلاکتیں ہوئیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق قابل تشویش بات یہ ہے کہ ان ہلاکتوں پر ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ہے اور نہ ہی لواحقین کو کوئی معاوضہ ادا کیا گیا ہے۔

بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار بریگٹ کینڈال کا کہنا ہے کہ نیٹو کو گزشتہ سال لیبیا میں شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری دی گئی تھی اور اس دوران کتنے معصوم لوگ مارے گئے یہ اب بھی ایک احساس مسئلہ ہے۔