شام میں گزشتہ رات کی لڑائی میں تیس ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP

شام کے شہر رستان میں گزشتہ رات کی لڑائی میں کم از کم تیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں تیئس فوجی بھی شامل تھے۔

شام کی انسانی حقوق کی تنظیم ’ابزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ کے مطابق حمص کے صوبے میں بھی پرتشدد واقعات میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔

برطانیہ میں قائم گروپ کے مطابق فوجیوں کے تین ٹرکوں کو تباہ کر دیا گیا۔

اگر ان ہلاکتوں کی صحیح تعداد کی تصدیق ہو گئی تو صدر بشار السد کے خلاف گزشتہ چودہ ماہ سے جاری تحریک میں سرکاری افواج کا یہ سب سے بڑا جانی نقصان ہو گا۔

رستان میں سرکاری فوجی کارروائی شروع ہونے کے تھوڑی دیر بعد یہ واقعہ پیش آیا۔ یاد رہے کہ ایک ماہ قبل اقوام متحدہ کی طرف سے تجویز کردہ جنگ بندی کا اطلاق کیا گیا تھا۔

دریں اثنا یورپی یونین نے شام کے خلاف نئی پابندی عائد کر دی ہیں۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والے ادارے ’آبزرویٹری‘ نے کہا ہے رستان جو دمشق سے ایک سو اسی کلو میٹر شمال میں واقع ہے رات بھر سرکاری فوجوں کی بمباری کی زد میں رہا جس میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے اور بہت سے لوگوں گھروں کو چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔

رستان شہر حکومت مخالف گروپوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور یہ شہر سرکاری فوجوں اور حکومت مخالف گروہوں کے درمیان شدید لڑائی کا محور رہا ہے۔

درین اثنا فوج نے ایک سنی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے دیہات پر حملہ کیا اور پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔