فراہ: گورنر ہاؤس پر خودکش حملہ

Image caption حملہ آوروں نے کمپائونڈ کے احاطے میں گھسنے کے لیے گیٹ پر خودکش حملہ کیا۔

پولیس حکام کے مطابق مغربی افغانستان میں گورنر ہاؤس پر ایک خودکش حملے میں کم از کم چھ پولیس اہلکار اور ایک عام شہری ہلاک اور تیرہ دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔

فراہ صوبے میں ہونے والے اس حملے میں چار حملہ آور ملوث تھے جن میں سے ایک نے خود کو گیٹ پر ہی دھماکے سے اڑا لیا اور اس کے ساتھی کمپاؤنڈ کے احاطے میں گھس گئے۔

کمپاؤنڈ کے اندر گھسنے والے حملہ آوروں کو تقریباً ایک گھنٹے کی لڑائی کے بعد ہلاک کر دیا گیا۔

فراہ صوبے کی سرحد ایران سے جا ملتی ہے جس کی وجہ سے یہ صوبہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ طالبان اکثر اس علاقے میں سرکاری دفاتر کو نشانہ بناتے ہیں۔

پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آور راکٹ کی مدد سے پھینکے والے گرنیڈوں، دستی بموں اور چھوٹے ہتھیاروں سے لیس تھے۔

فراہ کے نائب گورنر محمد یوسف رسولی کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے پولیس کی وردیاں پہن رکھی تھیں اور وہ دو حملہ آوروں کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہوئے جس کے بعد وہ خود زخمی ہوگئے۔

افغانستان کے چینل ون سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں آخر تک پولیس اور دیگر افراد کی ڈھارس بندھاتا رہا۔ میں نے ان میں سے دو کو ہلاک کیا اور پھر اپنے سمیت گورنر اور تقریباً دس سے بارہ بزرگوں اور اہلکاروں کو بچایا۔ مجھے اور میرے بیٹے کو گولیاں لگیں۔ خدا نے ہمیں بچا لیا۔‘

ان کا خدشہ تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا ’حملہ آوروں نے انتہائی بے رحمی سے کام لیا۔ ان کے سامنے جو بھی آیا انہوں نے اسے مارا چاہے وہ دفتر کی رکھوالی یا صفائی کا عملہ ہی کیوں نہ ہو۔‘

فراہ ہسپتال کے چیف ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ تیرہ زخمیوں میں دو خواتین ، ایک سالہ بچہ اور دو بزرگ بھی شامل ہیں۔

گزشتہ مہینے دو طالبان جنگجو کندھار میں گورنر ہاؤس میں گھس گئے تھے جنہیں آدھے گھنٹے کی لڑائی کے بعد ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں