برما میں سرمایہ کاری پر پابندی میں نرمی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکہ نے برما میں ہونے والی سیاسی اصلاحات کے بعد وہاں سرمایہ کاری پر عائد پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے بائیس سال کے بعد وہاں اپنے ایک سفیر کی تقرری کی ہے۔

امریکہ نے یہ قدم برما میں حالیہ سیاسی اصلاحات کے پیش نظر اٹھایا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیرِخارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ برما پر پابندیوں کے حوالے سے وسیع قانون برقرار رہیں گے۔

برما میں سنہ دو ہزار دس میں فوج کی حمایت یافتہ سویلین حکومت قائم ہوئی تھی اور حال میں ہی تاریخی ضمنی انتخابات ہوئے جس میں جمہوریت حامی رہنما آنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیمو کریسی نے حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔

برما کی سویلین حکومت پر فوجی کنٹرول اب بھی پوری طرح سے ختم نہیں ہوا اور ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

برما کے وزیر خارجہ وونا موگ لون سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے مشترکہ نیوز کانفرنس میں کلنٹن نے کہا ’ہم امریکی سرمایہ کاروں سے کہیں گے کہ وہ برما میں سرمایہ کاری کریں لیکن یہ سرمایہ کاری ذمہ داری کے ساتھ ہونی چاہیے۔‘

انہوں نے کہا ’ہم انشورنس پالیسی کے طور پر ضروری قوانین کو قائم رکھیں گے لیکن ہمارا مقصد اور عزم برما میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کو بڑھانا ہو گا۔‘

وزیر خارجہ نے کہا کہ برما کی پالیسی کے کنوینر ڈیرک مچل کو برما میں امریکی سفیر مقرر کیا جائے گا۔

ادھر امریکی صدر اوباما نے امریکی کانگریس سے کہا وہ برما میں قید سیاسی قیدیوں اور شدید انسانی حقوق خلاف کے حوالے اب بھی فکر مند ہیں۔

یورپی یونین نے پہلے ہی برما پر عائد پابندیوں کو ہٹا لیا ہے جس کا جمہوریت حامی رہنما آن سانگ سوچی نے استقبال کیا تھا۔

گزشتہ دو دہائیوں سے آن سانگ سوچی کو برما میں سیاسی قیدی کے طور پر نظر بند رکھا گیا تھا اور انہیں حال میں رہا کیا گیا تھا۔

ان کی قیادت میں ان کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے گزشتہ ماہ کے پارلیمانی انتخابات میں تینتالیس نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔

اسی بارے میں