نیٹو کانفرنس، سکیورٹی انتظامات اور احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی شہر شکاگو میں اتوار کو سخت سکیورٹی انتظامات میں افغانستان کے مسئلے پر نیٹو کانفرنس شروع ہو رہی ہے۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری بھی کانفرنس میں شرکت کے لیے شکاگو پہنچ گئے ہیں۔ صدر زرداری کے ہمراہ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور سیکرٹری خارجہ جلیل عباس گیلانی بھی ہیں۔

امریکہ کے تیسرے سب سے بڑے شہر شکاگو میں افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے ہونے والی نیٹو کانفرنس اس وقت تمام دنیا کی توجہ کا مرکز ہے۔

اس کانفرنس میں جہاں ایک طرف امریکی صدر باراک اوباما سمیت دنیا بھر سے ساٹھ ممالک کے سربراہان مملکت اور وزرائے اعظم اور ڈھائي ہزار کے لگ بھگ میڈیا کے اراکین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف سینکڑوں کی تعداد میں جنگ مخالف اور ’وال سٹریٹ پر قبضہ کرو‘ مہم چلانے والے کارکنوں کے قافلوں کی آمد بھی جاری ہے۔

شکاگو کی طرف جانے والے جنگ مخالفین اب اپنی تحریک کو’ شکاگو پر قبضہ کرو‘مہم کا نام دے رہے ہیں۔

نیویارک شہر سے خصوصی بسوں میں مظاہرین کا سفر شکاگو کی طرف جاری ہے جن کے ساتھ صحافی بھی شریکِ سفر ہیں۔

شکاگو سے آنے والی اطلاعات کے مطابق نیٹو کانفرنس کی جگہ اور اس کے اطراف سمیت شہر بھر میں سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔

شکاگو شہر کے میئر اور شہریوں کا کہنا ہے شہر میں ایسے سکیورٹی انتظامات پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

شہر کے شمال میں واقع مشہور بیس بال سٹیڈیم رگلی فیلڈ کے علاقے سے لیکر مشہور شکاگو جھیل اور اس سے متصل شاہراہ سمیت متعدد راستے کئی گھنٹوں کے لیے بند کر دیے گئے ہیں اور بعض جگہوں پر پولیس اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے والے عملے کو بھی یہ راستے استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔

شہر میں’ شکاگو پر قبضہ‘ کرو کے نام سے جنگ مخالف، سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف پرامن احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں، ان مظاہرین کو گرانٹ پارک کے علاقے اور ڈیلی پلازہ پر جمع ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔

جمعہ کو پولیس نے چھاپے مار کر نو افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں سے چھ کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے افراد میئر کے مکان اور پولیس تھانوں پر پیٹرول بموں سے حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے لیکن وکلاء کی معروف تنظیم نشنل لائرز گلڈ کے دفاعی وکلاء کا کہنا ہے گرفتار کیے جانے مشتبہ افراد دہشت گرد نہیں بلکہ مظاہرین تھے۔

اسی بارے میں