’محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ، واضح پیغام دیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

نیٹو کے سیکرٹری جنرل آنرس فو راسموسن نے کہا ہے کہ شکاگو کانفرس کے موقع پر صدر زرداری کو پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے لیے کچھ واضح پیغام دیں گے۔

تاہم نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے اپنے بیان میں یہ واضع نہیں کیا کہ وہ صدر زرداری کو کیا پیغام دیں گے۔

شکاگو میں نیٹو کی کانفرنس سے ایک روز قبل سنیچر کو یوتھ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی مثبت شراکت کے بغیر افغانستان کے مسائل حل نہیں کر سکتے۔

’پاکستان تعاون کرے، ورنہ ’خود‘ ہی کارروائی کریں گے‘

نیٹو کے مطابق یوتھ کانفرنس میں شریک ایک افغان مندوب نے ان سے پوچھا تھا کہ پاکستان میں طالبان اور القاعدہ کے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر توجہ دیے بغیر نیٹو کس طرح سے افغانستان کے مسائل کو حل کر سکتا ہے، نیٹو اب تک اس بارے میں سنجیدہ کیوں نہیں ہے؟

اس پر آنرس فو راسموسن نے کہا کہ ’ہمیں ان مسائل کو حل کرنا ہے۔ ہم نے صدر زرداری کو اجلاس میں شرکت کے لیے بلایا ہے۔ اتوار کی دوپہر کو ان کی صدر زرداری سے ملاقات ہو گئی اور یقیناً میں انہیں کچھ واضح پیغام دوں گا۔‘

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان نیٹو کے دشمن ہیں جو افغانستان کے بھی دشمن ہیں، ہم اس دشمن کے خلاف اپنا دفاع کرنے میں افغان لوگوں کی مدد کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان کے حالات میں بہتری آئی ہے۔

ان کے بقول وہاں دہشت گرد حملوں میں اس سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران پچھلے سال کی نسبت بیس فیصد کمی آئی ہے جبکہ افغان سکیورٹی فورسز کی کارکردگی بھی بہتر ہو رہی ہے اور انہیں اعتماد ہے کہ وہ 2014 تک ملکی سلامتی کی مکمل ذمہ داری سنبھال لیں گی۔

خیال رہے کہ صدر زرداری ایک ایسے وقت نیٹو کانفرس میں شرکت کے لیے امریکہ پہنچے ہیں جب پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پاکستانی فوج کی سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے حملے کے بعد سے کشیدہ ہیں اور اس میں گزشتہ کچھ دنوں میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

تاہم پاکستان اور امریکہ کے درمیان افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کو پاکستان کے زمینی راستے سے رسد کی سپلائی بحال کرنے کا معاملہ اب بھی حل طلب ہے۔

امریکہ اور نیٹو پاکستان سے متعدد بار مطالبہ کر چکے ہیں کہ قبائلی علاقے شملی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک سمیت دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف موثر کارروائی کرے، امریکہ کا موقف ہے کہ ان پناہ گاہوں سے دہشت گرد نکل کر افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج پر حملے کرتے ہیں۔

اسی بارے میں