اقوامِ متحدہ کے اہلکار ایران کے دورے پر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اقوامِ متحدہ کے جوہری ہتھیاروں کے نگراں ادارے کے سربراہ یوکیا آمانو اتوار کو ایران کا دورہ کریں گے۔

جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) سے تعلق رکھنے والے یوکیا آمانو پیر کو ایران کے سینئیر حکام سے ملاقات کریں گے۔

پیر کو ہونے والی ملاقات میں یوکیا آمانو تہران سے کہیں گے کہ وہ اس کے معائینہ کاروں کو پارچن کے معائنے کی اجازت دے۔

امریکہ اور اس کے اتحادی ایران پر جوہری بم بنانے کا الزام عائد کرتے ہیں تاہم ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

واضح رہے کہ یوکیا آمانو کا دورۂ ایران ویانا میں ایران کی جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے ہونے والے اجلاس کے دو دن بعد ہو رہا ہے۔

ماضی میں اس موضوع پر مذاکرات ناکامی کا شکار ہو چکے ہیں۔

فروری میں بھی ایران نے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو پارچن جانے کی اجازت نہیں دی ۔

یہ مذاکرات تہران میں کیے جائیں گے اور یہ بغداد میں چھ ممالک اور ایران کے بیچ ایک بین الاقوامی اجلاس سے دو روز پہلے منعقد ہو رہے ہیں۔

ایران اور اسرائیل کے بیچ تناؤ گزشتہ کئی ہفتوں سے بڑھ رہا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اگر سفارتکاری ناکام ہوئی تو وہ ایران پر حملے کے پر غور کرسکتا ہے۔

اقوام متحدہ، امریکہ ، یورپی یونین، کینیڈا، جاپان اور آسٹریلیا ان ممالک میں سے ہیں جنہوں نے ایران پر آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے پابندیاں لگا رکھی ہیں۔

اسی بارے میں