لاکربی بمبار المگراہی انتقال کر گئے

آخری وقت اشاعت:  اتوار 20 مئ 2012 ,‭ 15:07 GMT 20:07 PST
عبدالباسط المگراہی

مگراہی کو سنہ دو ہزار نو میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کر دیا گیا تھا

سکالینڈ میں لاکربی کے مقام پر انیس سو اٹھاسی میں امریکی فضائی کمپنی کے مسافر بردار طیارے کو تباہ کرنے کے جرم میں سزا پانے والے عبدالباسط المگراہی لیبیا کے شہر طرابلس میں انتقال کر گئے ہیں۔

مگراہی کو سنہ دو ہزار ایک میں ہالینڈ کی ایک خصوصی عدالت میں سزا سنائی گئی تھی۔

مگراہی کو سنہ دو ہزار نو میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کر دیا گیا تھا۔ انھیں رہائی دیے جانے کے وقت وہ سرطان کے مرض میں مبتلا تھے اور کہا جا رہا تھا کہ ان کی زندگی کے چند ماہ ہی باقی رہ گئے ہیں۔

رہائی کے بعد لیبیا پہنچنے پر ان کا ایک ہیرو کی طرح استقبال کیا گیا تھا۔

ان کی رہائی پر امریکی فضائی کمپنی کے مسافر بردار جہاز میں ہلاک ہونے والے کے لواحقین نے زبردست احتجاج کیا تھا۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ مگراہی اس طیارے کو تباہ کیے جانے میں ملوث نہیں تھے۔

امریکی شہری ڈاکٹر جم سوائر نے جن کی صاحبزادی اس حادثے میں ہلاک ہو گئی تھیں مگراہی کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر سوائر کا کہنا تھا کہ اپنی زندگی کے آخری لمحات تک ان کی خواہش تھی کہ ان کے خلاف فیصلہ واپس لیا جائے تاکہ وہ اپنے خاندان پر لگا بدنامی کا داغ دھو سکیں۔

مگراہی کے بھائی عبدالحکیم کا کہنا تھا کہ ان کی صحت تیزی سے خراب ہو رہی تھی اور وہ طرابلس میں اپنے گھر میں وفات پا گئے۔

طرابلس میں ان کے گھر پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار رانا جواد کا کہنا تھا کہ مگراہی کے گھر والے تعزیت کے لیے آنے والوں کے لیے انتظامات میں مصروف تھے۔

مگراہی جو لیبیا کی خفیہ ایجنسی کے رکن تھے پین ایم کی پرواز ایک صفر تین کو دسمبر سنہ انیس سو اٹھاسی میں تباہ کرنے کے الزام کی ہمیشہ تردید کرتے رہے۔

یہ برطانیہ کی سرزمین پر ہونے والا دہشت گردی کا بدترین واقع تھا۔

اس جہاز پر سوار دو سو انسٹھ مسافروں میں سے ایک بھی مسافر زندہ نہیں بچ پایا تھا اس کے علاوہ جہاز کے زمین پر گرنے سے گیارہ مقامی لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

اس واقعے کی تفتیش کرنے والے ان کپڑوں کے چیتھڑوں کی جن میں بم لپٹا ہوا تھا تحقیق کرتے ہوئے ملٹا پہنچے جہاں سے انہیں مگراہی تک پہنچنے میں مدد ملی۔

مگراہی اور ان کے ایک ساتھی الامین خیلفہ فہیما کو سکاٹ لینڈ اور امریکی عدالتوں نے سزا سنائی۔

ابتداء میں لیبیا نے ان دونوں شہریوں کو برطانوی حکام کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا لیکن بعد میں طویل مذاکرات کے بعد ان دونوں کو برطانوی حکام کے حوالے کرنے پر تیار ہوا۔

مگراہی اور ان کے ساتھی پر مئی دو ہزار میں مقدمے کی سماعت شروع ہوئی ۔ مگراہی پر اس مقدمے میں تمام الزامات ثابت ہو گئے جبکہ ان کے ساتھی فہیما کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا۔ مگراہی کو ستائیس سال کی سزا سنائی گئی تھی۔

انھوں نے اپنی سزا کا پہلا حصہ گلاسگو میں انتہائی سکیورٹی والی جیل میں گزارا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔