ڈرون حملوں کا مستقل حل چاہتے ہیں: صدر زرداری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

صدر آصف علی زرداری نے شکاگو میں نیٹو کانفرس کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن سے ملاقات میں کہا ہے کہ پاکستان ڈرون حملوں کا مستقل حل چاہتا ہے۔

صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلری کلنٹن سے ملاقات میں صدر زرداری نے کہا کہ ڈرون حملوں سے نہ صرف ملکی خودمختاری کی خلاف وزری ہوتی ہے بلکہ ان حملوں میں معصوم لوگوں کے مارے جانے سے عوام کے جذبات مشتعل ہوتے ہیں۔

ترجمان کی جانب سے ڈرون حملوں کے مستقل حل کے بارے میں مزید کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں پر ملک کی سیاسی اور مذہبی جماعتیں کئی بار احتجاج کر چکی ہیں۔امریکہ کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں ایک موثر ہتھیار ثابت ہو رہے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق صدر زرداری نے ہلری کلنٹن سے ملاقات میں مزید کہا کہ آئندہ سلالہ جیسے واقعات کی اجازت نہیں دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی سربراہی میں جاری مصحالتی عمل کی حمایت جاری رکھے گا۔

صدر زرداری کے مطابق صرف فوجی طاقت کے ذریعے شدت پسندی اور عسکریت پسند کے مسئلے کا مستقل حل تلاش نہیں کیا جا سکتا۔

اس کے علاوہ صدر زرداری نے کہا کہ امریکہ کولیشن سپورٹ فنڈز کے واجبات ادا کرے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ رواں سال کے شروع میں کہا تھا کہ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والے اخراجات کے ضمن میں تقریباً ایک ارب پچاس کروڑ ڈالر کی ادائیگی نہیں کی ہے۔

صدر زرداری امریکی شہر شکاگو میں منعقدہ نیٹو کانفرس میں شرکت کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ صدر زرداری ایک ایسے وقت اس کانفرس میں شرکت کے لیے امریکہ پہنچے ہیں جب امریکہ اور پاکستان کے درمیان نیٹو رسد کی بحالی کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔

پاکستان نے گزشتہ سال نومبر میں پاکستانی فوجی کی سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے فضائی حملے کے بعد زمینی راستے سے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو رسد کی ترسیل پر پابندی عائد کر دی تھی اور کہا تھا کہ امریکہ فضائی حملے پر معافی مانگے۔

اس واقعے کے بعد دونوں ممالک میں تعلقات میں کافی تناؤ آ گیا تھا تاہم گزشتہ کچھ عرصے کے دوران اس میں کمی دیکھنے میں آئی ہے لیکن نیٹو سپلائی کا معاملہ اب بھی حل طلب ہے۔

امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے خبر رساں ادارے اے پی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان نیٹو کی رسد کے راستوں کی بحالی کا معاہدے ہو جائے گا لیکن اس کی توقع نیٹو کے سربراہ اجلاس کے دوران نہیں کی جا سکتی۔ دونوں ملک رسد لیجانے والے ٹرکوں سے کرائے راہداری کی رقم پر بحث ہو رہی ہے۔

اے پی نے ایک اعلیٰ امریکی اہلکار کا نام ظاہر کیے بغیر ان کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اس معاملے پر بہت فاصلہ ہے۔

صدر زرداری کی افغان صدر سے ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اس سے پہلے صدر زرداری نے اپنے افغان ہم منصب حامد کرزئی سے ملاقات کی ہے۔

دونوں رہنماؤں نے ملاقات میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو وسط ایشیائی راستوں تک وسعت دینے پر اصولی اتفاق کیا۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے صدر کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملاقات میں صدر زرداری نے پاک افغان تجارتی راہداری کے معاہدوں کو وسطی ایشیائی راستوں تک وسعت دینے کی تجویز دی۔

صدارتی ترجمان کے مطابق افغان صدر نے تجویز کا خیر مقدم کیا جبکہ اس کی مزید تفصیلات بعد میں طے کی جائیں گی۔

اسی بارے میں