’نیٹو سپلائی لائن کےتنازع پر ڈیڈ لاک نہیں ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

صدر زرداری نے امریکی شہر شکاگو میں منعقدہ دو روزہ نیٹو کانفرنس میں کہا ہے کہ پاکستان میں کابینہ کی دفاعی کمیٹی نے طے کیا کہ متعلقہ حکام سے کہا جائے کہ وہ نیٹو کے زمینی راستوں کی بحالی کے حوالے سے بات چیت کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔

نیٹو کانفرس میں شریک تمام ممالک نے افغانستان میں سال دو ہزار تیرہ تک سکیورٹی کی ذمہ داریاں افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کرنے کے فیصلے کی توثیق کر دی ہے۔

’سکیورٹی ذمہ داریاں منتقل کرنے کی توثیق‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

امریکی شہر شکاگو میں منعقدہ نیٹو کانفرس میں شریک تمام ممالک نے افغانستان میں سال دو ہزار تیرہ تک سکیورٹی کی ذمہ داریاں افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کرنے کے فیصلے کی توثیق کر دی ہے۔

نیٹو اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق سال دو ہزار چودہ میں افغانستان سے نیٹو کے جنگی فوجی دستے نکل جائیں گے تاہم تربیت فراہم کرنے والے فوجی یونٹ موجود رہیں گے۔

اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ افغانستان میں کنٹرول کی منتقلی کا عمل ناقابل واپسی ہے اور سال دو ہزار چودہ میں منصوبے کے مطابق افغانستان سے ایک لاکھ تیس ہزار اتحادی فوجیوں کی واپسی کے بعد وہاں پر غیر جنگی مشن موجود رہے گا۔

نیٹو کے سربراہ اجلاس، جس میں پچاس ملکوں کے سربراہان مملکت اور نمائندے شامل ہیں چند دیگر عالمی امور پر مذاکرات کے علاوہ افغانستان سے نیٹو فوج کے انخلاء کو حتمی شکل دینے اور افغانستان کی سکیورٹی فورسز کے لیے سالانہ چار ارب ڈالر کی رقم کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بلایا گیا تھا۔

اعلامیے کے مطابق افغانستان میں استحکام کے بعد افغان سکیورٹی فورسز کی تعداد میں کمی کا فیصلہ بین الاقوامی مشاورت سے افغان حکومت خود کرے گی اور افغان فورس کی اس وقت کی طے کردہ تعداد دو لاکھ اٹھائیس ہزار پانچ سو ہے اور اس کا سالانہ بجٹ چار ارب ایک کروڑ ڈالر ہو گا اور سکیورٹی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے بجٹ کا جائزہ معمول کے مطابق لیا جاتا رہے گا۔

اس سے پہلے صدر اوباما نے کانفرس میں اپنے خطاب میں افغانستان کو سنہ دو ہزار چودہ میں نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد بھی امریکی تعاون جاری رکھنے کا یقین دلایا۔

صدر اوباما نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ امریکہ افغانستان کو سنہ دو ہزار چودہ میں نیٹو فوج کے انخلاء کے بعد بھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔

افغانستان اور امریکہ کے درمیان چند ماہ قبل ہونے والے دفاعی معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امریکی صدر اوباما نے کہا کہ اس معاہدے کہ بعد کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان اور امریکہ میں طویل المعیاد بنیادوں پر تعاون کا معاہدہ ہو سکتا ہے۔

صدر اوباما نے افغانستان کے بارے میں امریکی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کی سمت درست ہے۔

صدر اوباما نے مزید کہا کہ امریکہ ہمیشہ افغان عوام کا ساتھ دیتا رہے گا۔

افغان صدر حامد کرزئی نے صدر اوباما سے اپنی ملاقات میں کہا کہ افغانستان بین الاقوامی برادری پر بوجھ نہیں بنے گا۔

’نٹو سپلائی، معاملے کو جلد حل کرنے کی ہدایت‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

صدر زرداری نے نیٹو کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کابینہ کی دفاعی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام سے کہا جائے کہ وہ زمینی راستوں کی بحالی کے حوالے سے بات چیت کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی پارلیمان نے نیٹو اور ایساف سے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے ایک ’روڈ میپ‘ تیار کیا ہے اور یہ ملک کی جمہوری طاقتوں کی ملکیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جمہوری طاقتوں اور پارلیمان کی مشورے کے پابند ہیں اور ہماری پارلیمان نے شراکت داری اور تعاون کے نقطہ نظر کے حق میں بات کی ہے۔

یہ تعاون اس وقت ہی ایک لمبے عرصے تک پائیدار ہو سکتا ہے جب اس کی بنیاد باہمی احترام، خودمختاری اور تعاون پر ہو۔

انہوں نے نیٹو سپلائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کابینہ کی دفاعی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام سے کہا جائے کہ وہ زمینی راستوں کی بحالی کے حوالے سے بات چیت کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔

صدر زرداری نے کہا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اعتماد اور احترام پر مبنی شراکت داری پر یقین رکھتا ہے۔

صدر زرداری نے افغانستان میں پرامن تبدیلی کی حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ افعانستان میں دیر پا اسحتکام کے لیے طویل المدتی عزم کی ضرورت ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’افغانستان اور مجموعی طور پر خطے کے لیے یہ وقت بہت اہمیت کا حامل ہے اور میں یہاں پاکستان کے اس یقین کی تصدیق کرتا ہوں کہ ایک پرامن، خوشحال اور مستحکم افغانستان پاکستان کے قومی مفاد میں ہے۔‘

پاکستان کے صدر زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ نیٹو کی سپلائی لائن کے تنازعے پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان ڈیڈ لاک نہیں پایا جاتا اور صدر آصف علی زرداری کی شکاگو کانفرنس میں شرکت سے پاکستان کا مقدمہ مضبوط ہوا ہے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار احمد رضا کو شکاگو سے ٹیلی فون پر دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے امریکی حکام اور نیٹو پر واضح کیا ہے کہ پاکستانی پارلیمینٹ نے جو رہنماء اصول مرتب کیے ہیں ہم ان پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔

’صدر زرداری نے یہ بھی کہا کہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ بڑا بدقسمت واقعہ ہے جس کی وجہ سے ہمیں اس معاملے میں اپنے تعلقات پر نظرثانی کی ضرورت پڑی اور پارلیمینٹ نے ایک روڈ میپ دے دیا ہے، ہم اس روڈ میپ پر چلنے کے پابند ہیں۔‘

انہوں نے اس تاثر کو رد کردیا کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان نیٹو کے سامان رسد کے لیے راستے کھولنے کے معاملے پر ڈیڈ لاک پایا جاتا ہے۔

’میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک مثبت پیغام ہے۔ راتوں رات تو چیزیں حل نہیں ہوتیں لیکن پاکستانی ٹیم سے جو کہا گیا ہے کہ وہ اس معاملے کو جلد طے کریں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک اہم اور واضح پیش رفت ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ صدر زرداری نے افغانستان کی سکیورٹی فورسز کی تربیت اور انہیں آلات کی فراہمی کے لیے مجموعی طور پر دو کروڑ ڈالر کی امداد کا بھی اعلان کیا اور بین الاقوامی برادری پر 2014ء میں نیٹو کی فوجوں کے انخلاء کے بعد بھی افغانستان کی مدد جاری رکھنے پر زور دیا تاکہ افغان سکیورٹی فورسز کو مضبوط کیا جا سکے۔

جب ان کی توجہ امریکی ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان خبروں کی طرف دلائی گئی کہ امریکہ اور نیٹو دونوں ہی پاکستان کی طرف سے نیٹو کی سپلائی لائن نہ کھولنے پر خوش نہیں ہیں اور یہ کہ صدر اوباما نے صدر آصف علی زرداری سے باضابطہ ملاقات کرنا گوارا کیا اور نہ ہی افغانستان میں نیٹو کو سامان رسد پہنچانے میں مدد کرنے دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان کا شکریہ ادا کیا؟

تو ان کا کہنا تھا کہ’پاکستان اور امریکہ دو خودمختار ملک ہیں اور ان کے تعلقات میں اتار اور چڑھاؤ آتا رہتا ہے اور بالخصوص ایسے حالات میں جب کہ دونوں ہی ملک شدت پسندی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہوں۔‘

’تو اس طرح کے ماحول میں غلط فہمیاں بھی پیدا ہوتی ہیں اور گلے شکوے بھی پیدا ہوتے ہیں۔ ملکوں کے تعلقات میں یہ نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ اگر صدر صاحب کی پچھلے دو دنوں کی مصروفیات کا خلاصہ نکالا جائے تو میں یہ کہوں گا کہ امریکہ اور بین الاقوامی برادری پر پاکستانی موقف مزید واضح ہوا ہے۔‘

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ شکاگو میں صدر زرداری نے پاکستان کا جو مقدمہ پیش کیا ہے اس سے پاکستان کے اندر حکومت کے مخالفین پر بھی صورتحال واضح ہوگئی ہوگی جو کہتے تھے کہ صدر زرداری اس لیے شکاگو جا رہے ہیں کہ نیٹو کی سپلائی لائن فوری کھول دی جائے۔

امریکی صدر اوباما سے صدر زرداری کی باضابطہ ملاقات نہ ہونے کے متعلق انہوں نے کہا کہ پاکستانی صدر کے اس دورے کا مقصد امریکی صدر سے ملاقات کرنا نہیں تھا بلکہ یہ تھا کہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ جو افغانستان میں امن و استحکام میں دلچسپی رکھتی ہے، افغانستان کے معاملے پر اظہار یکجہتی کی جائے۔

نیٹو سپلائی دیگر موضوعات پر حاوی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکہ کے شہر شکاگو میں ہونے والی دو روزہ کانفرنس میں نیٹو رسد کی بحالی کے علاوہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیگر حل طلب معاملات کانفرنس کے دوسرے موضوعات پر حاوی رہا۔

کانفرس کے دوران صدر اوباما کی صدر زرداری سے غیر رسمی ملاقات ہوئی ہے۔

صدر اوباما نے ملاقات کے بعد تسلیم کیا کہ امریکہ کی پاکستان کے ساتھ گزشتہ کئی ماہ سے کشیدگی تھی اور اس کو بیان نہیں کرنا چاہتے لیکن مسئلے کے حل پر کام جاری ہے۔‘

اس ملاقات کے بعد صدر براک اوباما نے نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں پہلے سے معلوم تھا کہ کانفرس میں نیٹو سپلائی کا معاملہ نہیں طے پائے گا لیکن اس میں پیش رفت ہوئی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ’میرے خیال میں بلآآخر اتحاد میں شامل ایساف سمیت ہر ایک اور سب سے اہم افغانستان اور پاکستان کے لوگ اس بات کو سمجھ جائیں گے کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک سکیورٹی، استحکام اور خوشحالی حاصل کر نہیں سکتا جب تک وہ کچھ حل طلب مسائل کو حل نہیں کر لیتے اور مشترکہ مفاد کے تحت بین الاقوامی برادری کا ساتھ نہیں دیتے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ خطے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں نہیں ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Urdu

کانفرس میں شریک برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ’ صورتحال بہت مایوس کن ہے لیکن وہ پرامید ہیں کہ نیٹو سپلائی کے راستے کھل جائیں گے لیکن ایسا آج نہیں ہونے جا رہا۔‘

نیٹو کے سیکریٹری جنرل آنرس فو راسموسن نے ایک اخباری کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے ان سوالات کو مسترد کیا کہ صدر زرادری کو نیٹو کانفرس میں شرکت کی دعوت اس لیے دی گئی تھی کہ نیٹو سپلائی کی بحالی کا معاملہ طے پا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زمینی راستے سے نیٹو سپلائی پر پابندی سے کوئی نیٹو کے آپریشن پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا لیکن دو ہزار چودہ میں نیٹو فوجیوں کے انخلاء کے وقت لاجسٹک آپریشنز میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

’وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے زمینی راستے سے نیٹو سپلائی جلد از جلد بحال ہو جائے، جس کی کافی اہمیت تھی اور وہ امید کرتے ہیں کہ مستقبل قریب میں یہ راستے کھل جائیں گے۔‘

میڈیا اطلاعات کے مطابق’صدر زرداری نے کہا کہ ان کی حکومت نیٹو سپلائی بحال کرنے کے معاہدے کے حق میں ہے۔‘

خیال رہے کہ امریکی حکام نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کئی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو کہہ چکے ہیں کہ تنازع کرائے راہداری طے کرنے پر ہے۔

’صدر زرداری کو سرد مہری کا سامنا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکہ کے شہر شکاگو میں نیٹو سربراہ اجلاس کے موقعے پر نیٹو سپلائی کی بحالی کا معاملہ امریکی میڈیا کا نمایاں موضوع بنا ہوا ہے۔

امریکی اخبارات نے اس خبر کو نمایاں جگہ دی کہ صدر براک اوباما کی طرف سے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات ان کی مصروفیات کا حصہ ہی نہیں۔

کانفرس میں جہاں افغانستان کے صدر حامد کرزئی کو خاصی پذیرائی ملی وہیں نیٹو کی دعوت پر شرکت کرنے والے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کو سرد مہری کا سامنا رہا اور اس بات کا امریکی میڈیا نے باقائدہ تذکرہ بھی کیا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے صحفہ اول کی خبر میں یہاں تک دعویٰ کیا کہ صدر براک اوباما نے صدر آصف علی زرداری سے ملنے سے ہی انکار کر دیا ہے اور اب وہ خالی ہاتھ واپس جائیں گے۔

خیال رہے کہ نیٹو اجلاس کے دوسرے روز صدر اوباما نے غیر رسمی طور پر صدر زرداری سے مختصر ملاقات کی ہے۔

نیٹو اجلاس کی رپورٹنگ کرنے والے پاکستانی صحافیوں کے مطابق بھی اجلاس میں افغانستان کی زبردست پذیرائی ہوئی اور صدر زرداری کے ساتھ سرد مہری بہت نمایاں اور محسوس ہونے والی چيز تھی۔

اخبار شکاگو ٹربیون کے مطابق اجلاس میں ایساف کی مدد کرنے پر وسطیٰ ایشیائی ریاستوں اور روس کا بھی شکریہ ادا کیا گیا لیکن پاکستان کا قابل ذکر حد تک کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

اخبار نے مزید لکھا کہ صدر باراک اوباما کی طرف سے وسطیٰ ایشیائي ریاستوں اور روس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری جو کانفرنس کی اسی گول میز پر ہی اپنی نشت پر براجمان تھے، صدر باراک اوباما کو انہماک سے دیکھتے رہے۔

امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں نمایاں سرخی لگائي کہ’نیٹو کانفرنس میں سربراہان کا گرمجوشی سے استقبال لیکن پاکستان نہیں۔‘

اخبار نے اسی رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ صدر اوباما صدر آصف زرداری سے ملاقات نہیں کریں گے کیونکہ امریکی حکام پاکستان کی طرف سے نیٹو سپلائي کی بحالی پر انکار سے سخت ناراض ہیں۔

اخبار کے مطابق امریکی سیکریٹری دفاع لیوں پینیٹا نے نیٹو کانفرنس کے پہلے دن وسطیٰ ایشیا کی پانچ ریاستوں کے سربراہان سے نیٹو سپلائی لائن کے متبادل راستے کے حوالے سے بات چیت کی جو افغانستان سے انخلاء کے وقت استعمال کی جائے گی اور یہ اچھی خاصی مہنگی پڑے گی۔

شکاگو کے پبلک ریڈیو سات سو بیس ڈبلیو جی این کا کہنا تھا کہ نیٹو کانفرس میں شرکت کرنے والے رہنماؤں کا گرمجوشی سے استقبال لیکن پاکستان کا نہیں جو امریکہ سے پاکستان کے زمینی راستے سے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو ’غیر مہلک رسد‘ کی ترسیل پر فی ٹرک پانچ ہزار ڈالر مانگ رہا ہے۔

لیکن مشہور امریکی پبلک ریڈیو نیشنل پبلک ریڈیو یا این پی آر نے کہا ہے کہ نیٹو سپلائي لائن کے مسئلے پر پاکستان کے ساتھ تنازع نیٹو کانفرنس کی کامیابی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

اسی بارے میں