برطانوی فوجیوں کی اطلاع پر پرل ہاربر پر حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP

برطانیہ میں حال ہی منظر عام پر آنے والی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ سابق برطانوی فوجیوں نے دوسری جنگ عظیم میں جاپانیوں کو ایسی معلومات فراہم کی تھیں جن سے انہیں پرل ہاربر اور سنگاپور پر حملہ کرنے میں مدد ملی تھی۔

یہ دعوے بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم کا حصہ ہیں جس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سابق فوجی برطانوی انتظامیہ کے اندرونی حلقوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

سن انیس سو بیالیس میں برطانیہ کے مضبوط گڑھ سنگاپور پر جاپانی قبضے کو برطانیہ کی عسکری تاریخ کی ایک بد ترین شکست قرار دیا جاتا ہے۔ اور انیس سو اکتالیس میں پرل ہاربر کے امریکی بحری اڈے پر جاپانی فضائی حملے نے امریکہ کو دوسری جنگ عظیم میں شامل ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔

منظر عام پر آنے والے نئے شواہد جاپان کی ان دونوں کامیابیوں کے پیچھے برطانیہ کے اہم کردار کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جس میں کچھ سابق برطانوی فوجی کئی دہائیوں تک جاپان کو اہم خفیہ معلومات پہنچاتے رہتے ہیں۔ یہ دعویٰ بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم میں کیا گیا ہے۔ یہ فلم پال ایلسٹن نے بنائی ہے۔

’انہوں نے جب یہ کام شروع کیا تو قانونی طور پر اس میں کوئی غلط بات نہیں تھی کیونکہ اس وقت جاپان اور برطانیہ اکٹھے تھے۔ انیس سو بائیس میں امریکی دباؤ میں ان دونوں کا یہ اتحاد ختم ہو گیا تھا اور اس کے بعد ان لوگوں کا یہ کام جاری رکھنا اور جاپان کی مدد کرتے رہنا غیر قانونی تھا اور انہوں نے ایسا خفیہ طور پر چوری چھپے کیا۔‘

ان میں ہاؤس آف لارڈز کے رکن لارڈ سیمپِل بھی شامل تھے جو جنگ کے دوران برطانیہ کے وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے قریبی رفقاء میں شامل تھے۔ اس زمانے میں ہونے والے اجلاس کی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ چرچل نے بات کا پتہ چلنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔

تاہم بہت زیادہ شواہد ملنے کے باوجود لارڈ سیمپل جیل جانے سے بچ گئےتھے۔ کہا جاتا تھا کہ ایسا خود چرچل کو بچانے کے لیے کیا گیا تھا۔ چرچل کے لیے یہ بات انتہائی شرمندگی کا باعث ثابت ہونی تھی کہ وہ انجانے میں اپنے دوست لارڈ سیمپل کو معلومات فراہم کر رہے تھے جو وہ آگے جاپانیوں تک پہنچا رہے تھے۔