طالبان نیٹو کی تُو تُو میں میں

ٹوٹر پر مکالمہ تصویر کے کاپی رائٹ Other

افغانستان میں طالبان اور غیر ملکی افواج کے درمیان لڑائی میدانوں سے ہوتی ہوئی اب ٹوئٹر پر بھی پہنچ چکی ہے۔

میدان جنگ میں مقابلہ ایک دوسرے کو جانی نقصان پہچانے کے لیے ہوتا ہے جبکہ ٹوئٹر پر ان کی لڑائی کا مقصد ایک دوسرے کو جھوٹا ثابت کرنا اور کامیابی کے دعوے کر کے عوام کی حمایت حاصل کرنا معلوم ہوتا ہے۔

منگل بائیس مئی کی صبح ’امارات اسلامی افغانستان‘ کے ترجمان سمجھے جانے والے عبدالقہار بلخی کی جانب سے ٹویٹ کے ذریعے دعویٰ کیا گیا کہ ’الفاروق نامی دھماکہ خیز مواد آئی ای ڈی کی مدد سے (افغانستان کے مقامی وقت) صبح آٹھ بجے ہلمند میں بین الاقوامی سکیورٹی امدادی فورس(ایساف) کا ٹینک تباہ کر دیا گیا اور اس میں سوار چاروں حملہ آور ہلاک ہو گئے۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے نکالا گیا‘۔

اس کے تین گھنٹے کے بعد ایساف میڈیا کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جواب دیا گیا کہ ’ایساف رپورٹنگ ہلاکتوں کے تمہارے اس دعوے کی تردید کرتی ہے اور دوسرے بھی جو تم آج کر رہے ہو۔‘

دو گھنٹے کے بعد عبدالقہار بلخی کے اکاؤنٹ سے اس بات کے جواب میں کہا گیا کہ ’ایساف کی رپورٹنگ کو کب سے معتبر سمجھا جانے لگا ہے؟؟ تم تو ابھی سے دن بھر میں کیے جانے والے دعوؤں کی تردید کر رہے ہو؟‘

تقریباً پینتالیس منٹ کے بعد ایساف کی طرف سے بلخی کو جواب دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’تمہاری خبر کی تردید کرتے ہیں۔ تمہارا دعویٰ ہے کہ ایساف کی پندرہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ایساف کی رپورٹنگ کے مطابق آج کی ہلاکتیں صفر ہیں‘۔

اس طرح کے دعوؤں اور جوابی دعوؤں کا یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی ٹوئٹر پر ایک دوسرے کو جھوٹا قرار دینے کا مقابلہ ہو چکا ہے۔

تیس دسمبر سن دو ہزار گیارہ کو طالبان کے عبدالقہار بلخی نے دعویٰ کیا کہ ’مجاہدین نے ایساف کا ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔‘ اس کے ساتھ ایک لنک بھی دیا گیا تھا۔ ایساف نے اس کے جواب میں کہا کہ ’تم نے غلط لنک لگایا ہے۔‘

عبدالقہار بلخی نے جواب میں ٹویٹ کیا کہ ’چلو ناں، کیا تم چاہتے ہو کہ میں ویڈیو لگا دوں اور ایک بار پھر تمہیں سر کھجاتا چھوڑ دوں؟‘

ایساف نے جواب دیا کہ ’تم فکر مت کرو، ہمیں پہلے ہی معلوم ہے کہ کیا ہوا تھا اور کیا نہیں۔‘

یہاں پر مکالمہ ختم ہو گیا۔

اسی بارے میں