ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کا آغاز

آئی اے ای اے تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے مطابق ایران کے ساتھ سمجھوتے کی خاصی امید ہے

دنیا کی چھ بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان اس کے متنازعہ جوہری پروگرام پر مذاکرات عراق کے دارالحکومت بغداد میں شروع ہوگئے ہیں۔

ان مذاکرات کا انعقاد ایران کی درخواست پر کیا جا رہا ہے۔

جوہری توانائی سے متعلق اقواِم متحدہ کے عالمی ادارے اور ایران کے درمیان ایرانی جوہری تنصیبات تک زیادہ رسائی کے معاملے پر ایک روز پہلے ہی گفتگو ہوئی تھی۔

ایرانی وزیرخارجہ علی اکبر صالحی کے مطابق مغربی طاقتوں کی جانب سے ان کے ملک پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں بے کار ثابت ہوں گی تاہم ان کے مطابق مذاکرات کے امید افزاء ہونے کی وجوہات بہرحال موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے سامنے جو تجاویز رکھی گئی ہیں اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ مغربی ممالک بغداد میں ہونے والے مذاکرات کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں۔

ایران کا ہمیشہ سے اصرار رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے تاہم امریکہ اور مغربی مملک کا کہنا ہے کہ ایران اس کی آڑ میں جوہری ہتھیار بنا رہا ہے۔

ان مذاکرات میں جرمنی کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے پانچ مستقل اراکین امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین ایران کواس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو محدود رکھے۔

گزشتہ ماہ استنبول میں اس سلسلے میں ہونے والے مذاکرات میں مشترکہ نکات پر اتنی پیش رفت ہوگئی تھی جس کی بنیاد پر بغداد میں مذاکرات کا اگلا دور طے پایا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بغداد میں مغربی ممالک کی ترجیح یہ ہوگی کہ ایران یورینیم کی بلند شرح سے افزودگی کو بند کرنے پر رضامند ہوجائے اور سنہ دو ہزار دس کی سطح پر جوہری پروگرام جاری رکھے۔

سنہ دو ہزار دس کے بعد سے ایران نے یورینیم کی افزودگی کی اپنی صلاحیت کو مزید وسعت دیتے ہوئے قم کے شمالی شہر کے نزدیک فوردو میں ایک بڑی زیرِزمین تنصیب کو شروع کر دیا ہے۔

اسی بارے میں