بوکو ہرام کے رہنما کی ’خفیہ‘ زندگی

ابوبکر شیکاؤ تصویر کے کاپی رائٹ youtube
Image caption ابو بکر صرف انٹرنیٹ پر جاری ہونے والی متعدد ویڈیوز میں ہی نظر آئے ہیں۔

ابوبکر شیکاؤ شدت پسند اسلامی گروپ بوکو ہرام کے رہنما ہیں یہ وہ گروپ ہے جس نے شمالی نائیجیریا میں متعدد مہلک حملے کیے ہیں۔

ابو بکر شیکاؤ شدت پسند اسلامی گروپ بوکو ہرام کے رہنما کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک تنہائی پسند، بے خوف اور پیچیدہ شخصیت کے مالک ہیں۔

ابو بکر نائجیریا کی شمال مشرقی ریاست یوب میں پیدا ہوئے تھے اور ان کے مرید انہیں امام اور رہنما کہہ کر پکارتے ہیں۔

ابو بکر کی عمر کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جا سکتا کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی عمر 34 یا 35 سال ہے جبکہ کچھ لوگوں کے خیال میں وہ 43 برس کے ہیں۔

2009 میں سکیورٹی دستوں کے ہاتھوں ابو بکر کی ہلاکت کی اطلاع ملی تھی لیکن ایک سال بعد وہ انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو میں باکو کے نئے رہنما کے طور پر نمودار ہوئے۔

اس گروپ کے بانی محمد یوسف پولیس حراست میں مارے گئے تھےاور ایک بڑی کارروائی میں اس کے سینکڑوں کارکن بھی ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد سے یہ گروپ مزید پرتشدد کارروائیاں کرنے لگا ہے۔

ابو بکر اس کے بعد صرف انٹرنیٹ پر جاری ہونے والی متعدد ویڈیوز میں ہی نظر آئے ہیں۔ایسے ہی ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’اللہ مجھے جس کسی کو مارنے کا حکم دیتا ہے مجھے اسے مارنے میں بڑا مزہ آتا ہے‘۔

کہا جاتا ہے کہ ابوبکر ایک مشترکہ دوست ممن نور کے توسط سے اپنے پیش رو سے ملے تھے۔ نائجیریا کے حکام کے مطابق ابوجا میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوراٹر پر ہونے والے حملے کے پیچھے ممن نور کا ہاتھ تھا۔

یہ تینوں ہی تھیو لوجی کے طالبِعلم تھے اور ابوبکر ان میں سب سے خاموش طبیعت انسان تھے۔

نائجیریا کے ایک صحافی احمد سالکیدہ کا کہنا ہے کہ ابوبکر بہت کم گو ہیں لیکن وہ ایک بے خوف انسان ہیں۔ احمد سالکیدہ ایک ایسے صحافی ہیں جن کو بوکو ہرام تک رسائی حاصل ہے یہاں تک کے ایک موقع پر ان کے بارے میں یہ سمجھا جانے لگا تھا کہ وہ بوکو ہرام کے رکن ہیں۔

احمد سالکیدہ کا کہنا ہے کہ ابوبکر ان لوگوں میں سے ہیں جو اپنے عقیدے کے لیے کوئی بھی قربانی دے سکتے ہیں۔

ابوبکر اپنی علاقائی زبان کنوری، ہوسا اور عربی فراوانی سے بول سکتے ہیں تاہم انہیں انگریزی نہیں آتی۔

بوکو ہرام کے بانی محمد یوسف کی ہلاکت کے بعد ابو بکر نے ان کی چار بیواؤں میں سے ایک کے ساتھ شادی کر کے ان کے بچے بھی گود لے لیے تھے۔

ابو بکر خود اپنے کارکنوں سے براہِ راست بات نہیں کرتے بلکہ انہوں نے سیل لیڈر منتخب کیے ہیں اور ان کے ذریعے وہ اپنا کام کرتے ہیں تاہم ان میں سے زیادہ تر سیل لیڈر بھی براہِ راست ابوبکر سے نہیں ملے ہیں۔

اسی بارے میں