مصر صدارتی انتخاب: پہلا مرحلہ بے نتیجہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگلے مرحلے میں مقابلہ احمد شفیق (دائیں) اور محمد مرسی (بائیں) کے مابین ہو گا

مصر کے صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں کوئی امیدوار بھی واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور اب اگلے مرحلے میں اخوان المسلمین کے امیدوار محمد مرسیِ اور سابق صدر حسنی مبارک کے دور میں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے والے احمد شفیق کے مابین مقابلہ ہو گا۔

گ مصر میں صدارتی انتخاب: تصاویر میں

مصر کی اخوان المسلمین نے دعویٰ کیا ہے کہ صدراتی انتخابات میں اس کے امیدوار محمد مرسی نے دوسرے امیدواروں کے مقابلے میں زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں ۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق صدارتی انتخاب کا پہلا مرحلہ بے نتیجہ رہا ہے اور دوسرے مرحلے کی ووٹنگ ناگزیر ہو گئی ہے۔

ابتدائی نتائج کے مطابق اخوان المسلمین کے امیدوار محمد مرسی نے چھببیس فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ احمد شفیق نے چوبیس فیصد ووٹ حاصل کیے۔ ووٹوں کی گنتی ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے اور انتخاب کے حتمی نتائج کا اعلان منگل کو متوقع ہے۔

اخوان المسلمین نے کہا ہے کہ انقلاب کو بچانے کے لیے وہ دوسری سیاسی جماعتوں سے رابطے کرے گا تاکہ حسنی مبارک کی باقیات کو اقتدار میں واپس سے روکا جا سکے۔

اخوان المسلمین کے ترجمان نے کہا کہ اگر احمد شفیق منتخب ہوگئے تو اس سے مصر کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔

اس انتخاب میں بارہ صدارتی امیدوارں نے حصہ لیا جن میں سے نمایاں چار امیدواروں کا تعلق یا تو اسلامی جماعتوں سے ہے یا پھر وہ سابق صدر حسنی مبارک سے منسلک رہے ہیں۔

اگلے مرحلے کی پولنگ سولہ اور سترہ جون کو ہو گی اور پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدواروں کے مابین دوبارہ الیکشن ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پولنگ کے موقع پر مصری عوام میں جوش و خروش پایا گیا

نامہ نگاروں کے مطابق مصر کے صدارتی انتخابات میں جو بھی فاتح قرار پائے گا اس کے لیے بڑا چیلنج ملک کے تباہ کن معاشی حالات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ ملک کی طاقت ور فوج سے تعلقات کا از سرِ نو جائزہ لینا شامل ہے۔

خیال رہے کہ اس صدارتی انتخاب سے قبل ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات میں بھی مذہبی جماعتوں نے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔

مصر میں انتخابی عمل پر نظر رکھنے والے اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں نے مجموعی طور پر اس الیکشن کو شفاف اور پرامن قرار دیا ہے۔

مصر میں حسنی مبارک کے بعد اقتدار سنبھالنے والی عبوری فوجی کونسل نے ملک میں شفاف انتخابات کے ذریعے عوامی حکومت کے قیام کا وعدہ کیا تھا۔

اسی بارے میں