حولہ قتل عام: شامی حکومت کا لاتعلقی کا اظہار

ہولہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برطانیہ، فرانس اور عرب لیگ نے بھی اس تشدد کی مذمت کی ہے

شام کے حکام نے اس بات کی تردید کی ہے کہ حولہ نامی قصبے میں ہونے والے قتل عام میں ملک کی سیکیورٹی فورسز ملوث ہیں۔

جمعے کو ہولہ میں جھڑپوں کے بعد نوے لوگ مردہ پائے گئے تھے جن میں کئی بچے بھی شامل تھے۔

دمشق میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شام کی وزارت خارجہ کے ترجمان جہاد مقدیسی نے کہا ہے کہ سیکڑوں مسلح جنگجو حولہ میں داخل ہوئے تھے جہاں انہوں نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔

شامی حکومت بھاری اسلحے کا استعمال روکے: اقوام متحدہ

مسٹر مقدیسی کا کہنا تھا کہ ’مردوں، عورتوں اور بچوں کے سروں میں گولیاں مارنا شام کی بہادر فوج کا شیوہ نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے پر جو بین الاقوامی ردعمل سامنے آیا ہے وہ محض حزب اختلاف کے ذرائع کے بیانات پر مبنی ہیں۔

جہاد مقدیسی کا کہنا تھا کے ’حولہ شہر میں جمعے کی سہہ پہر سکیورٹی فورسز اور مسلح دہشت گردوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس کے بعد مسلح افراد نے بھاری اسلحے جن میں مارٹر اور ٹینک شکن ہتھیار شامل ہیں کی مدد سے شہر پر حملہ کر دیا۔ ‘

انہوں نے مزید کہا کہ ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیم حولہ روانہ کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب حزب مخالف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے حولہ میں مظاہروں کے بعد وہاں بمباری کی ہے۔ ان کے مطابق بعض افراد شیلنگ کے باعث ہلاک ہوئے جبکہ دیگر افراد کو شبیہٰہ نامی حکومتی ملیشیا نے قتل کیا۔

.ادھر شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ نمائندے کوفی عنان کل یعنی پیر کو دمشق کے دورے پر پہنچ رہے ہیں۔

اس سے قبل مغربی طاقتوں نے شام کے شہر حولہ میں نوے افراد کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور برطانیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکہ نے ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے شامی صدر بشارالاسد کے اقتدار کو’ قاتلانہ اقدار‘ کا نام دیا ہے اور اس کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ یورپی اتحاد، عرب لیگ، فرانس اور جرمنی نے بھی ہلاکتوں پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے شامی حکومت پر دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے واقعے کو ’شدید طور پر قابل نفرت فعل‘ قرار دیتے ہوئے قتل عام کہا ہے۔

انہوں نے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کو ’قاتلانہ اقتدار‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس خوف کا اب لازماً خاتمہ ہونا چاہیے۔

اپنے ایک بیان میں وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے ہلاکتوں کو بے رحمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ شامی صدر اور ان کے ساتھیوں کے اقدار سے الگ ہونے کے لیے دباؤ بڑھائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حولہ میں ہلاک ہونے والوں میں بتیس بچے بھی شامل ہیں

برطانوی وزیرِخارجہ ولیم ہیگ نے کہا کہ وہ اس ’گھناؤنے جرم‘ کے خلاف پُرزور بین الاقوامی توجہ چاہتے ہیں۔

وزیرِ خارجہ ویلیم ہیگ نے کہا ہے کہ وہ ایک بھرپور عالمی ردعمل کے لیے اپنے اتحادیوں سے مشاورت کر رہے ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے آئندہ ہفتے ایک ہنگامی اجلاس بلانے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

شام کے بحران پر اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان نے اپنے ایک بیان میں اس واقعے کو شام میں جاری عوامی احتجاج کے دوران اب تک کا سب سے خونی واقعہ قرار دیتے ہوئے اسے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کہا ہے۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ نے شام میں نگران مشن کی طرف سے حولہ قصبے میں نوے افراد کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد شام کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہری علاقوں میں بھاری اسلحے کا استعمال روک دے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے شام میں قتل عام کی مذمت کی۔

شام نے دہشتگردوں گروہ کو اس قتل عام کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ قتل عام کی جگہ سے ٹینک اور آرٹلری فائرنگ کے شواہد ملے ہیں۔

شام میں اقوام متحدہ کے نگران مشن کے سربراہ میجر جنرل رابرٹ موڈ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مبصروں نے کم از نوے لاشیں دیکھی جن میں دس سال سے کم عمر کے بتیس بچے بھی شامل ہیں۔

حکومتی افواج کی حولہ میں گولہ باری کے بعد جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں جس کی تصدیق نہیں ہو سکی بچوں کی لاشیں دکھائی گئی ہیں۔

مسٹر فیبیو نے کہا ہے کہ وہ شام کی حزبِ اختلاف کی حمایت کرنے والے ممالک جنہیں ’فرینڈز آف سیریا گروپ‘ کہا جاتا ہے کے اجلاس کے فوری انتظامات کر رہے ہیں جن میں عرب اور مغربی ممالک شامل ہونگے لیکن اس اجلاس میں چین اور روس کو شامل نہیں کیا جائےگا جنہوں نے شام کے خلاف اقوامِ متحدہ کی پابندیوں پر روک لگا دی تھی۔

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ دیگر شہروں میں نمازِ جمعہ کے بعد ہونے والے مظاہروں پر کیے گئے تشدد میں کم سے کم بیس افراد ہلاک ہوئے۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کے مطابق حزب اختلاف کے کارکنوں کی جانب سے انٹرنیٹ پر جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں بچوں کی مسخ شدہ لاشیں دکھائی گئی ہیں۔

حزب اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی سیکورٹی فورسز نے متعدد خاندانوں کو ایک قصبے پر حملے کے دوران ہلاک کیا۔

شام میں بین الاقوامی میڈیا پر عائد پابندی کے باعت ان اطلاعات کی تصدیق بہت مشکل ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف گزشتہ سال مارچ سے شروع ہونے والے مظاہروں میں کم سے کم دس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں