شامی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں:کوفی عنان

شام کے لیے عرب لیگ اور اقوامِ متحدہ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان نے کہا ہے کہ شام میں تقریباً ایک برس سے جاری تشدد کے بعد حالات اس موڑ پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی ممکن دکھائی نہیں دیتی۔

انہوں نے یہ بات حولہ میں ایک سو آٹھ افراد کے قتلِ عام کے بعد منگل کو شامی صدر بشار الاسد سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہی۔

کوفی عنان کا کہنا تھا کہ شام میں قیامِ امن کے چھ نکاتی عالمی منصوبے پر ویسے عمل نہیں ہو رہا جیسے کہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں انہوں نے شامی صدر سے فوری طور پر تشدد کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنے کو کہا تاکہ ملک میں قیامِ امن کے منصوبے پر عمل ہو سکے۔

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ملاقات میں شامی صدر نے حولہ کے قتلِ عام کے لیے ’دہشتگردوں‘ کو ذمہ دار قرار دیا۔

ادھر امریکہ اور برطانیہ سمیت دس مغربی ممالک نے حولہ میں ہونے والے قتلِ عام پر شام کے سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

تاہم امریکہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ شام میں فوجی مداخلت فی الحال صحیح قدم نہیں کیونکہ اس سے ملک میں پہلے سے موجود افراتفری اور تشدد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے یہ بات منگل کو ایک پریس بریفنگ میں کہی۔ تاہم کارنی کا کہنا تھا کہ امریکہ نے تاحال فوجی مداخلت سمیت کسی بھی آپشن کو رد نہیں کیا ہے۔

امریکی دفترِ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ کا کہنا ہے کہ ’ہم شامی حکومت کو معصوم جانوں کی ہلاکت کا ذمہ دار سمجھتے ہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ شامی ناظم الامور زہیر جبور سے کہا گیا ہے کہ وہ آنے والے بہّترگھنٹوں میں امریکی سرزمین چھوڑ دیں۔

امریکہ اور برطانیہ کے علاوہ جن ممالک نے شامی سفارتکاروں کو اپنے ملک سے نکل جانے کو کہا ہے ان میں فرانس، جرمنی، اٹلی، سپین، کینیڈا، آسٹریلیا، دی نیدرلینڈز اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں۔

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پیر کو شام کے سفیر کو دفترخارجہ میں طلب کر کے انھیں ایک ہفتے کے اندر ملک سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے اتحادی ملک بھی شام کی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے شامی سفارت کاروں کو اپنے ملکوں سے نکال رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حولہ کے قتل عام پر’دنیا شدید حیرانی کا شکار ہے‘۔

شام کے شہر حولہ میں گزشتہ جمعہ کو ہونے والے قتلِ عام میں انچاس بچوں اور چونتیس خواتین سمیت ایک سو آٹھ افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ہلاک کیے گئے ان ایک سو آٹھ افراد میں زیادہ تر کو قتل کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے ترجمان نے کہا ہے کہ عینی شاہدین نے تفتیشی عملے کو بتایا ہے کہ حکومت کی حامی مسلح ملیشیا کے لوگوں نے ان افراد کو قتل کیا ہے۔

اس واقعہ میں بچ جانے والے افراد کا کہنا ہے کہ مسلح افراد لوگوں کے گھروں میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کرتے رہے اور انھوں نے بچوں کے گلے کاٹ دیئے۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سفارت کار کے ترحمان روپرٹ کوویل نے اخبار نویسوں کا بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ حولہ شہر کے قریب تالدو کے گاؤں میں بیس کے قریب افراد ایک ٹینک کا گولہ لگنے سے ہلاک ہوئے۔

انھوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر افراد کو اس گاؤں میں دو مختلف واقعات میں قتل کیا گیا۔

قبل ازیں کچھ زندہ بچ جانے والے افراد نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ایک سو آٹھ افراد کو قتل میں ملوث افراد ملیشیاء ’الشبيحۃ‘ سے تعلق رکھتے تھے اور وہ قریبی گاؤں الاوئتی سے آئے تھے۔

اقوام متحدہ کے نمائندے کوفی عنان نے اس قتل عام کو اندوہناک لمحہ اور بہت دورس اثرات کا حامل واقعہ قرار دیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جم میور نے لبنان سے بتایا ہے کہ یہ کوفی عنان کے امن منصوبے کے لیے فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہو گا اور انھیں بشار الاسد سے اپنی ملاقات میں کچھ ایسا کرنا ہوگا جس سے ملک کو فرقہ وارانہ فساد سے بچایا جا سکے۔

کوفی عنان کے امن منصوبے کے تحت بارہ اپریل کو ملک میں جنگ بندی عمل میں لائی جانی تھی اور اقوام متحدہ کے مبصرین کی تعیناتی سے قبل سرکاری فوجوں کو ٹینکوں اور بھاری ہتھیاروں سمیت شہری علاقوں سے نکلنا تھا۔

اسی بارے میں