صومالیہ کے حل کے لیے استنبول میں کانفرنس

سومالیہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سومالیہ میں ایک لمبے عرصے سے شورش جاری ہے

صومالیہ میں گزشتہ ایک دہائی سے جاری انتشار کے خاتمے کا حل تلاش کرنے کے مقصد سے دنیا بھرکے رہنما اور صومالیہ کے سیاستدان ترکی کے شہر استنبول میں ایک کانفرنس کر رہے ہیں۔

اس دو روزہ کانفرنس کی میزبانی ترکی کی حکومت کر رہی ہے۔

کانفرنس میں حصہ لینے کے لیے عالمی رہنما کے علاوہ صومالیہ کے بزرگ رہنما، بڑے صنعت کار اور غیر سرکاری تنظیمیں استنبول پہنچے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس کانفرنس پر اگست میں اقوام متحدہ کی حمایت والی عبوری حکومت کی مدت کے خاتمے پر بحث ہوگی۔

لیکن اس حکومت کا اقتدار صرف صومالیہ کے دارلحکومت موغادیشو تک محدود ہے جبکہ القاعدہ سے منسلک شدت پسند تنظیمیں ملک کے دوسرے حصوں پر قابض ہیں۔

حالیہ مہینوں میں پانچ شمالی افریقی ممالک کی فوجوں نے الشباب کے خلاف کامیاب کارروائی کی ہے لیکن شدت پسند موغادیشو اور ملک کے دیگر حصوں میں حملے کرتے رہے ہیں۔

بی بی سے کے نامہ نگار میری ہارپر کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس میں اس بات پر بحث کی جائے گی کہ صومالیہ حالیہ عبوری حکومت کے جانے کے بعد کس طرح کام کرے گا اور اس میں سومالیہ کے لیے ایک عالمی پالیسی پر بھی اتفاق کرنے کی کوشش ہوگی۔

اس کے علاوہ صومالیہ میں توانائی، پانی اور سڑکوں کے مسائل پر اس کانفرنس میں بات چیت ہوگی۔

انکا کہنا ہے کہ دوسرے ممالک کی بنسبت ترکی صومالیہ کے حالات میں تبدیلی لانے میں زیادہ کامیاب رہا ہے۔

گزشتہ برس صومالیہ میں فاقہ کشی کے دوران ترکی کے وزیر اعظم اور انکی اہلیہ نے موغادیشو کا دورہ کیا تھا۔ گزشتہ بیس برس میں افریقہ سے باہر کے کسی رہنما کا یہ پہلا دورہ تھا۔

اس کے بعد سے ترکی صومالیہ میں سڑکیں ، سکول اور ہسپتال بنانے میں سب سے آگے رہا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا یہ بھی کہنا ہے کہ استنبول میں ہونے والی اس کانفرنس کے بارے میں بعض صومالی سیاستدانوں کی شکایت ہے کہ ترکی نے اس کانفرنس کے بارے میں زیادہ شفافیت نہیں برت رہی ہے اور کانفرنس میں کس کس کو مدعو کرنا ہے اس کے بارے میں ان سے صلاح و مشورہ نہیں کیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے صومالیہ کے مختلف سیاسی دھڑوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ بیس اگست تک ملک کے صدر کا انتخاب کریں گے۔

اسی بارے میں