’شامی حکومت کو اڑتالیس گھنٹے کی مہلت‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مطالبہ نہ مانا گیا تو جنگ بندی پر یکطرفہ عمل کی کوئی وجہ نہیں: باغی

شام میں حکومت مخالف باغیوں کی فری سیرئین آرمی نے حکومت کو ملک کے شہروں اور دیہات سے فوج نکالنے کے لیے اڑتالیس گھنٹے کی مہلت دی ہے۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ قیامِ امن کے عالمی منصوبے پر عمل کرنے کا عزم ترک کر دیں گے۔

ادھر سلامتی کونسل میں کہا گیا ہے کہ جب تک شام میں تشدد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات ناممکن ہیں۔

انٹرنیٹ پر شائع ہونے والی ایک ویڈیو میں باغیوں کے ایک افسر کرنل قاسم سعد الدین نے کہا ہے کہ اگر حکومت جمعہ کی دوپہر تک ان کا مطالبہ نہیں مانتی تو باغی جنگجوؤں کے لیے یکطرفہ طور پر جنگ بندی پر عملدرآمد کی کوئی وجہ باقی نہیں رہے گی۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان کے امن منصوبے کی تمام جزئیات پر عمل کرے۔ اس چھ نکاتی امن منصوبے کے تحت اپریل میں شامی فوج کو ملک کے آبادی والے علاقوں سے ہٹ کر ٹینکوں اور توپخانے سمیت واپس بیرکوں میں جانا تھا۔

اس سے قبل شام کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ جب تک ملک میں جاری تشدد ختم نہیں ہوتا شامی حکومت اور اپوزیشن کی بات چیت کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شام کے لیے خصوصی ایلچی کوفی عنان کے نائب جین میری گوئے ہینو کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی اہم ہے کہ فریقین تشدد کے خاتمے کے لیے پرعزم رہیں کیونکہ شام میں حالات کا خانہ جنگی کی جانب جانا تباہ کن ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام میں گزشتہ برس مارچ اب تک پندرہ ہزار کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں

اقوامِ متحدہ میں شام کے سفیر نے کہا کہ غیر ملکی قوتیں ان کے ملک میں موجود مسلح دہشتگردوں کی مالی مدد کر رہی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے لیے امریکی سفیر سوزین رائس کا کہنا تھا کہ شام کے حالات کی وجہ سے یہ مسئلہ ایک علاقائی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے جبکہ روس نے امریکہ سمیت مغربی ممالک کی جانب سے شامی سفارتکاروں کی بےدخلی کو نقصاندہ قرار دیا۔

خیال رہے کہ شام کے علاقے حولہ میں بچوں اور عورتوں سمیت ایک سو آٹھ افراد کے قتلِ عام کے بعد مغربی ممالک نے شامی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کے احکامات دیے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں گزشتہ برس مارچ سے شروع ہونے والی حکومت مخالف تحریک کے دوران اب تک پندرہ ہزار کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں